تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 506

میں پڑھتے تھے یا دونوں رکعتوں میں تقسیم کرکے پڑھتے تھے۔اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا١ۚ تم میرا یہ کرتہ لے جانا اور اسے میرے باپ کے سامنے(جا) رکھنا( اس سے) وہ (میرے متعلق) بصیرت پا کر وَ اْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَؒ۰۰۹۴ (میرے پاس )آئیں گے اور تم اپنا سارا کنبہ( بھی) میرے پاس لے آنا۔حلّ لُغَات۔بَصِیْرٌ۔اَلْبَصِیْرُالْمُقْتَدِرُ عَلَی النَّظْرِ خِلَافُ الضَّرِیْرِ۔بَصِیْرٌ کے معنے ہیں صحیح سالم نظر والا۔رَجُلٌ بَصِیْرٌ بِکَذَا۔عَالِمٌ بِہٖ خَبِیْرٌ: عالم واقف کار شخص (اقرب) تفسیر۔لوگ کہتے ہیں کہ اس فقرہ سے ان کو ملامت کی ہے کہ جیسے تم نے پہلے قمیص ڈالی تھی ویسے ہی اب بھی قمیص لے جاؤ تاکہ شرمندہ ہوں۔مگر میرے نزدیک یہ کمال عفو ہے کہ پہلے وہ قمیص لے جانے سے ہی ناراض ہوئے تھے اب بھی قمیص کے ذریعہ بشارت دو تاکہ وہ تم سے خوش ہوں۔اور تمہارے گناہوں کی خدا تعالیٰ سے معافی مانگیں۔لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ کہہ کر جب خود معاف کر دیا تو قمیص دے کر یہ خواہش ظاہر کی کہ باپ بھی ان کے لئے دعا کرے۔يَاْتِ بَصِيْرًا کے معنے يَاْتِ بَصِيْرًا سے یہ مراد ہے کہ پہلے اس کو مومنانہ شان سے علم تھا کہ میرا بیٹا زندہ ہے مگر اب وہ بصیرت ظاہری پاکر میرے پاس آئے گا کہتے ہیں۔رَجُلٌ بَصِیْرٌ بِکُنْھِہٖ اَیْ عَالِمٌ بِہٖ خَبِیرٌ۔یعنی رَجُلٌ بصیرٌ کے معنے عالم اور واقف کار کے بھی ہوتے ہیں۔مطلب آیت کا یہ ہے کہ پہلے الہام کے ماتحت جو حضرت یعقوبؑ کو ایمان تھا وہ اب امر واقع کے علم کی صورت میں بدل جائے۔آخر میں بھائیوں کو عفو سے بڑھ کر حسنِ سلوک کی بشارت دی اور انہیں اپنے اہل ساتھ لاکر ان نعمتوں میں شریک ہونے کی دعوت دی۔جو خدا تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو عطا فرمائی تھیں۔