تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 505

قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ١ؕ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١ٞ وَ هُوَ اس نے کہا اب تمہیں( قطعاً )کوئی ملامت نہ ہوگی (اور) اللہ (بھی) تمہیں بخش دے گا اور وہ سب رحم کرنے والوں اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ۰۰۹۳ سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَلتَّثْرِیْبُ۔اَلتَّقْرِیْعُ۔تَثْرِیبٌ کے معنے ہیں ڈانٹ ڈپٹ۔وَالتَّقْھِیْرُ بِالذَّنْبِ۔قصور پر سرزنش۔(مفردات) ثَرَبَہٗ لَامَہٗ وَعَیَّرَہُ بِذَنْبِہٖ۔ثَرَبَہٗ کے معنے ہیں غلطی پر ملامت کی اور قصور پر برا بھلا کہا۔اَلْمَرِیْضَ نَزَعَ عَنْہُ ثَوبَہٗ جب ثرب کا مفعول مریض ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں اس سے کپڑا اتارا۔وَفِی الْمِصْبَاحِ ثَرَبَ عَلَیْہِ۔عَتَبَ وَلَامَ۔مصباح میں ثَرَبَ عَلَیْہِ کے یہ معنے لکھے ہیں کہ قصور پر ملامت و سرزنش کی۔وَثَرَّبَہٗ وَثَرَّبَ عَلَیْہِ۔قَبَّحَ عَلَیْہِ فِعْلَہٗ یُقَالُ لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمْ:- ثَرَّبَہٗ اور ثَرَّبَ عَلَیْہِ کے معنے ہیں کسی کے فعل کی برائی کا اظہار کیا۔پس لَا تَثْرِيْبَ کے معنے ہوئے کہ تمہاری برائی کو کبھی ظاہر نہ کیا جائے گا۔اور اس پر ملامت نہ کی جائے گی۔(اقرب) تفسیر۔حضرت یوسف ؑ کا اپنے بھائیوں کو معاف کرنا حضرت یوسف علیہ السلام نے پھر اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھایا۔ا ور فوراً ان کی معافی کا اعلان کردیا۔ورنہ اس وقت جبکہ ان کے بھائی غیرملک میں تھے اور بالکل بے یارومددگار تھے نہ معلوم کیا کیا خیال آرہے ہوں گے کہ اب یوسف کس کس طرح ہم سے بدلہ لے گا؟ پس حضرت یوسفؑ نے فوراً ہی اعلانِ عفو کرکے ان کے دلوں کو وساوس کی تکلیف سے بچا لیاجو اصل عذاب کی تکلیف سے کم نہیں ہوتی اور نہ صرف خود ہی معاف کیا بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی ان کی مغفرت کی دعا کی اور اپنے بھائیوں کو اس مغفرت کی امید دلائی۔یوسف علیہ السلام کا یہ کام اس قدر عظیم الشان ہے کہ صرف اس ایک کام کی وجہ سے وہ زندہ جاوید کہلانے کے مستحق ہیں۔قرآن کریم اور بائبل دونوں میں اس واقعہ کو لیا گیا ہے۔قرآن مجید نے حضرت یوسفؑ کے واقعہ کو ان کی اخلاقی خوبیوں کی وجہ سے بیان کیا ہے لیکن دونوں کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ایک نے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کو صرف اس امر کے اظہا رکے لئے