تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 496

فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ میں اعلیٰ درجہ کے صبر کا نمونہ دکھاؤں گا۔اگر رو روکر انہوں نے آنکھیں ضائع کردی تھیں تو اعلیٰ درجہ کے صبر کا نمونہ دکھانے کا وہ کیونکر دعویٰ کرسکتے تھے؟ صبر کا مفہوم ایک حدیث سے۔آنحضور ؐ کے گیارہ بچے فوت ہوئے صبر کا مفہوم ایک حدیث سے اچھی طرح ظاہر ہو جاتا ہے۔روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو اپنے بیٹے کی قبر پر روتے دیکھا تو فرمایا کہ صبر کرو۔عورت نے جواب دیا کہ اگر تیرا بیٹا فوت ہوجاتا تو کیسے صبر کرتا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں ہوا کہ اسے نصیحت کرنے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن کر فرمایا کہ میرے تو گیارہ بچے فوت ہوچکے ہیں اور میں نے صبر کیا ہے۔یہ کہہ کر حضور چلے گئے۔بعدمیں جب لوگوں نے اسے ملامت کی کہ تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا نامناسب جواب دیا تو وہ نادم ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ یارسول اللہ! میں نے آپؐ کو پہچانا نہ تھا۔میں نے اب صبر کیا۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِنَّمَاالصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلٰی صبر تو مصیبت کے پہلے صدمہ کے موقع پر ہوتا ہے (بخاری کتاب الجنائز باب زیارۃ الصبور)۔بعد میں تو سب ہی خاموش ہوجاتے ہیں۔پس جب چند گھنٹے رو دھو کر خاموش ہوجانے سے بھی انسان بے صبر کہلا سکتا ہے تو چالیس سال رونے والا کس منہ سے صبر کا اور پھر صبر جمیل کا دعویٰ کرسکتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ غم کی کیفیت کو ایسا لمبا کرنا جو انسان کو ناکارہ کردے خواہ اس غم کا لوگوں پر اظہار ہو یا نہ ہو اسی کا نام جزع فزع ہے جو ناپسندیدہ ہے۔اور نبی کی شان سے بالکل بعید ہے کہ کسی بات پر وہ اس قدر غم کرے کہ اس کی ہلاکت کا مترادف ہو۔اگر وہ روتے رہتے تھے تو دین کی خدمت کس طرح کرتے تھے؟ پس مجازی معنوں کی صورت میں بھی وہ معنے لینے چاہئیں جو حضرت یعقوبؑ کی شان کے مطابق ہوں نہ وہ جو انہیں عام مومن کے درجہ سے بھی گرا دیں۔