تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 495
اِبْیَضَّ کے معنے لغت میں اندھا ہونے کے نہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ جب اِبْیَضَّکے معنے لغت میں اندھا ہونے کے نہیں ہیں تو کیوں نہ اِبْیَضَّتْ کے معنے پانی سے بھر جانے کے کئے جاویں۔جبکہ پانی اور دودھ کو اَبْیَضَانِ کہنے کا محاورہ عربی میں مستعمل ہے۔اور ظاہر ہے کہ آنکھوں میں پانی بھر آنے کا یہی مطلب ہے کہ آنسو بھر آئے اور دوسرے معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ پڑیں یعنی کثرت سے آنسو ٹپک پڑے۔اِبْیَضَّ کے مجازی معنے آنکھوں کے غم سے چمک پڑنے کے ہیں پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر اِبْیَضَّتْ سے ہم نے مجاز ہی لینا ہے تو کیوں نہ وہ مجاز لیں جو اعلیٰ ہو۔یعنی یہ کہ غم کے مارے ان کی آنکھیں چمک پڑیں اور یہ ایک قدرتی بات ہے کہ غم کے وقت انسان کی آنکھوں میں ایک چمک سی پیدا ہوتی ہے بشرطیکہ وہ غم دیر تک نہ لگا رہے۔ادیب بھی ان معنوں میں آنکھوں میں چمک پیدا ہونے کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ادیب لوگ بھی اس غم کی حالت کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابھی امید کی جھلک باقی ہو آنکھوں میں چمک پیدا ہونے کے الفاظ استعمال کرلیا کرتے ہیں۔تو گویا جب تازہ غم میں جس میں امید کی شعاع نظر آتی ہو جب ایک جھلک اور چمک آنکھوں میں پیدا ہو جاتی ہے تو کیوں نہ یہ معنے کئے جائیں کہ ان کی آنکھیں اس تازہ غم کی وجہ سے چمک اٹھیں کیونکہ انہوں نے محسوس کرلیا کہ غم اپنی انتہاء کو پہنچ گیا ہے اور اب ضرور خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہوگا۔اِبْيَضَّتْ عَيْنٰهُ کے معنے شدید غم میں مبتلا ہونے کے ہیں مگر جیسا کہ حل لغات کے نیچے لکھا گیا ہے اِبْیَضَّتْ عَیْنٰہُ مِنَ الْحُزْنِ کے معنے شدید غم میں مبتلا ہونے کے بھی ہوتے ہیں۔پس ان معنوں کی موجودگی میں اور معنی کرنا صرف عجوبہ پسندی ہی کہلا سکتا ہے جس کا قرآن کریم محتاج نہیں۔کَظِیْمٌ کا لفظ رو رو کر اندھا ہونے کو ردّ کرتا ہے اور جبکہ اس کے معاً بعد اللہ تعالیٰ نے فَهُوَ كَظِيْمٌ کے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے غم کو دبانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ حضرت یعقوبؑ نے رو رو کر آنکھیں ضائع کردیں۔رو رو کر آنکھیں کھو دینے والے کو کوئی غم دبانے والا نہیں کہہ سکتا۔اس لفظ کی موجودگی میں تو اگر اِبْیَضَّ کے معنے رو رو کر اندھا ہونے کے لغت میں ہوتے بھی تب بھی وہ اس جگہ چسپاں نہ ہوسکتے تھے۔صَبْرٌ جَمِيْلٌ علاوہ ازیں حضرت یعقوب علیہ السلام کا اپنا قول قرآن کریم نے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا