تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 494
اَلْکَظِیْمُ الْکُظُوْمُ النَّفَسِ اِحْتِبَاسُ النَّفَسِ۔کُظُوْمٌکے معنے ہیں سانس کا رکنا۔وَیُعَبَّرُ بِہٖ عَنِ السُّکُوْتِ۔خاموشی کے موقعہ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔کَظَمَ الْغَیْظَ۔حَبَسَہٗ۔غیظ کے ساتھ جب کَظَمَ کا لفظ آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں غصہ کو روک لیا۔کَظَمَ السِّقَاءَ شَدَّہٗ بَعْدَ مِلْئِہِ مَانِعًا لِنَفْسِہِ۔اور جب سِقَاء کے لئے کَظَمْ کا لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں مشکیزہ بھر کر پانی کو محفوظ رکھنے کے لئے اس کا منہ بند کر دیا۔پس کَظِیْمٌ ایسے شخص کو کہیں گے کہ جو اپنے اندر غصہ کو دبائے رکھے اور ظاہر نہ ہونے دے۔(مفردات) تفسیر۔اِبْيَضَّتْ عَيْنٰهُ کے معنوں میں مفسرین کا اختلاف اِبْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ۔غم کی وجہ سے ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں۔اس کے متعلق بڑا اختلاف ہوا ہے۔مفسرین کہتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اندھی ہوگئی تھیں اور ان پر سفیدی ہی سفیدی چھا گئی تھی۔اس کے متعلق ان میں اختلاف ہے کہ سفیدی کیوں چھا گئی۔بعض نے کہا ہے کہ روتے روتے اور اس رونے کی مدت بعض نے چالیس سال اور بعض نے ۸۱ سال بیان کی ہے۔بعض کہتے ہیں کہ دوسرے بیٹے کی خبر سن کر صدمہ سے بینائی جاتی رہی کہ اب تو دوسرا بھی جدا ہو گیا(تفسیر فتح البیان زیر آیت ھٰذا)۔دراصل اِبْیَضَّ کے ایک معنے بھی ایسے نہیں کہ جن سے اندھا ہونے کا مفہوم نکل سکے۔صرف ایک معنوں کو کھینچ تان کر یہ مفہوم نکالا گیا ہے۔بَیَّضَ کے معنے عربی میں کہتے ہیں کہ بَیَّضَ السِّقَاءَ۔مشکیزہ کو دودھ یا پانی سے بھر دیا۔یہ معنی جوہر اور صاغانی نے لکھے ہیں۔اسی طرح کہتے ہیں بَیَّضَہٗ مشکیزہ کو خالی کر دیا۔گویا یہ لفظ اَضْدَاد معنے رکھتا ہے۔یہ امر صاغانی اور لسا ن العرب نے بیان کیاہے اور تاج العروس والا کہتا ہے کہ یہ مجازی معنے ہیں عام معنی اِبْیَضَّ اور اِبْیَاضَّ کے اِسْوَدَّ اور اِسْوَادَّ کے خلاف ہیں یعنی جس طرح اِسْوَدَّ اور اِسْوَادَّ کے معنی سیاہ ہونے کے ہیں۔اِبْیَاضَّ کے معنے اِبْیَضَّ اور اِبْیَاضَّ کے معنی سفید ہونے کے ہیں اور اِبْیَضَّ اور اِبْیَاضَّ کبھی بَیَّضَ کا مُطَاوِع ہوکر بھی استعمال ہوتا ہے یعنی سفید ہو گیا۔اب اس آخری بات سے بعض نے یہ معنی نکالے ہیں کہ چونکہ بیّض کے معنی مجازاً خالی کر دینے کے ہیں جیسے کہ لسان العرب میں آیا ہے اور چونکہ اِبْیَضَّ بَیَّضَ کا مطاوع ہوکر استعمال ہو جاتا ہے۔اس لئے وہ مجازی معنے بَیَّضَ کے یہاں اِبْیَضَّ میں بھی آسکتے ہیں۔اس لئے انہوں نے اِبْیَضَّتْ عَیْنٰہُ کے معنے یہ کئے ہیں کہ اس کی آنکھیں غم کے مارے بہ پڑیں اور خالی ہو گئیں۔اور بعض مفسرین نے سفید ہونے سے بھی اندھا ہونا مراد لیا ہے۔