تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 493

یہودا کے اپنے قول پر قائم رہنے کا حضرت یعقوب پر اثر یہ کہہ کر کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو لے آئے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یوسف بھی اب تک زندہ ہے اور شاید خدا تعالیٰ یوسفؑ اور بن یامین اور یہودا سب کو واپس لے آوے۔اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودا کے اپنے قول پر قائم رہنے کا نیک اثر حضرت یعقوبؑ کے دل پر ہوا ہے اور اس کی نسبت بھی ان کے دل میں درد پیدا ہونے لگ گیا ہے۔وہ بہت جانتا اور بہت حکمت والا ہے۔اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر حقیقت کھول دی ہے اور میں اب سمجھتا ہوں کہ اس نے جو کچھ کیا ہمارے فائدہ ہی کے لئے کیا۔گذشتہ تکلیف درحقیقت ہمارے خاندان کی آئندہ ترقی کا ایک پیش خیمہ تھی۔وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوْسُفَ وَ ابْيَضَّتْ اور اس نے ان کی طرف سے اپنا رخ پھیر لیا۔اور( الگ جا کر دعا کی اور) کہا اے( میرے خدا!) یوسف پر میرے عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ۰۰۸۵ (اس) غم (و اندوہ کا سلسلہ کب ختم ہو گا) اور غم کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں سفیدی آگئی۔مگر وہ اپنے غم کو( ہمیشہ اپنے دل کے) اندر (ہی )دبائے رکھتا تھا۔حلّ لُغَات۔تَوَلّٰی عَنْہُ۔تَوَلّٰی عَنْہُ اَعْرَضَ وَتَرَکَہٗ تَوَلّٰی عَنْہُ کے معنے ہیں رخ پھیر لیا اور چھوڑ دیا۔(اقرب) یَا اَسَفٰی یَا اَسَفٰی وَیَااَسَفَاعَلٰی کَذَا تَوَجُّعٌ وَتَحَسُّرٌ عَلٰی مَافَاتَ کسی چیز کے ضائع ہونے پر دکھ اور درد کا اظہا رکرنے کے لئے یَا اَسَفٰی کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔(اقرب) اِبْیَضَّتْ عَیْنٰہُ یُقَالُ لِلْمَھْمُوْمِ اَظْلَمتْ عَلَیْہِ الدُّنْیَا وَابْیَضَّتْ عَیْنٰہُ مِنَ الْحُزْنِ (مجمع البحار جلد دوم ۴۴۹) جو غمزدہ ہو اس کے متعلق عرب یہ محاورہ استعمال کرتے ہیں کہ دنیا اس پر تاریک ہوگئی ہے اور یہ بھی کہ غم سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئی ہیں۔اَلْحُزْنُ۔خُشُوْنَۃٌ فِی النَّفْسِ لِمَا یَحْصُلُ فِیْہِ مِنَ الْغَمِّ۔دل کی بے قراری جو غم کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔وَیُضَادُّہُ الفَرَحُ اور اس کے بالمقابل فَرَحٌ کا لفظ بولا جاتا ہے۔(مفردات)