تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 492

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ١ؕ اس نے( یعنی یعقوبؑ نے) کہا (کہ یہ بات درست )نہیں(معلوم ہوتی) بلکہ (معلوم ہوتا ہے کہ) تمہارے عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ نفسوں نے کوئی بات خوبصورت کر کے تمہیں دکھائی ہے (اور اس کے تم مرتکب ہوئے ہو) پس( اب میرا کام تو) الْحَكِيْمُ۰۰۸۴ اچھی طرح صبر کرنا(ہی) ہے (کچھ) بعید نہیں کہ اللہ( تعالیٰ) ان سب کو میرے پاس لے آئے۔یقیناً وہی ہے جو خوب جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔حل لغات۔سَوَّلَتْ سَوَّلَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ کَذَا زَیَّنَتْہُ لَہٗ وَسَھَّلَتْہُ لَہٗ وَھَوَّ نَتْہُ اس کے نفس نے اس کے لئے اس کام کو خوبصورت کرکے یا اسے ایک معمولی بات قرار دے کر اور آسان کرکے دکھایا۔(اقرب) اَلتَّسْوِیْلُ تَزْیِیْنُ النَّفْسِ لِمَا تَحْرِصُ عَلَیْہِ وَتَصْوِیْرُ الْقَبِیْحِ مِنْہُ بِصُوْرَۃِ الْحَسَنِ جس بات کی طرف میلان ہو اسے نفس کا پسندیدہ کرکے دکھانا اور بری بات کو اچھے رنگ میں پیش کرنے کا نام تَسْوِیل ہے۔(مفردات) پس سَوَّلَتْ کے معنے ہوں گے کہ تمہارے نفسوں نے کوئی بات خوبصورت کرکے تمہیں دکھائی ہے۔تفسیر۔یہاں قرآن کریم کے طریق کے مطابق اس ذکر کو چھوڑ دیا ہے کہ پھر بھائی آئے اور انہوں نے اپنے والد کو یہ باتیں کہیں بلکہ والد کا جواب بیان کر دینا شروع کر دیا ہے۔قرآن کریم تاریخ کی کتاب نہیں۔وہ زائد باتیں چھوڑ دیتا ہے۔اس جگہ اس درمیانی بات کو چھوڑ دینے کی غرض یہ ہے کہ جو سبق دیا جارہا ہے اس میں وقفہ نہ پڑے اور پڑھنے والے کا ذہن سیدھا اس مضمون کی طرف منتقل ہو جو اس کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔برادران بن یامین نے دشمنی کے باعث اس کی طرف چوری کا عیب منسوب کردیا حضرت یعقوبؑ نے بیٹوں کی باتیں سن کر کہا کہ اصل میں تمہارے نفس کی خواہشات نے بری بات کو اچھا کر دکھایا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ بن یامین روکا نہیں گیا اور تم جھوٹ بولتے ہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ بن یامین کی دشمنی کی وجہ سے تمہارا ذہن ادھر نہیں گیا کہ وہ چوری کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔ضرورا س واقع میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اور تم نے اس سے دشمنی رکھنےکے باعث فوراً اس کی طرف اس عیب کو منسوب کر دیا ہے۔