تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 42

حال قوموں کا ہوتا ہے کہ ان پر کبھی رات آتی ہے اور کبھی دن۔مگر جس قوم پر رات ہی رات رہے وہ ترقی نہیں کرسکتی۔اور اسی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے کہ کسی قوم پر ہمیشہ دن ہی دن رہے۔کیونکہ انسان اپنے اعمال میں کبھی یکساں نہیں رہ سکتا۔جوں جوں نبیوں سے بعد ہوتا جائے گا اور زیادہ زمانہ گزرتا جائے گا تاریکی ہوتی جائے گی جیسے سورج سے دور ہونے کی وجہ سے ہم پر رات پڑ جاتی ہے ورنہ سورج کہیں چلا نہیں جاتا۔پس کوئی قوم اس بات سے خوش نہ ہوجائے کہ رات اور دن کا آنا جانا لازمی ہے۔کیونکہ روحانی دنیا میں بھی گو رات کا آنا لازمی ہے مگر اس کا دور کرنا بھی انسان کے اختیار میں ہے۔بے شک ترقی اور تنزل قوموں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔مگر تنزل کو دور کرنا اور ترقی کے حصول کے لئے کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔زندگی پیدا کرنے کے لئے جدوجہد کا چھوڑ دینا اور رات کو ایک طبعی اور خودبخود دور ہوجانے والی چیز سمجھ لینا غلطی ہے۔متقی انسان رات کے وقت کو دیکھ کر کوشش کرتے ہیں کہ ان کی قوم پر سورج چڑھے۔اور نبی آکر یہی تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے دروازے کھولو اور سورج چڑھا لو۔اس بات پر مطمئن نہ ہوجاؤ کہ تنزل قوموں کے ساتھ لگا ہی ہوا ہے۔کسب کا تعلق نہار سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ (الانعام:۶۱ ) پس اگرچہ رات قدرتی اور مفید چیز ہے مگر بغیر دن کے مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔تمام کام دن سے تعلق رکھتے ہیں۔کانوں کا کھودنا، زراعت، تجارت وغیرہ سب کسب دن سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔اور وہ سورج سے پیدا ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبوں سے فرماتا ہے کہ تم بھی اس روحانی سورج (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) سے تعلق پیدا کرو تا تمہاری قوم پر دن چڑھے اور رات دور ہو۔کیونکہ سورج سے تعلق پیدا کئے بغیر یہ بات ناممکن ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور اس ورلی زندگی پر راضی ہو گئے ہیں اور اس پر انہوں نے اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ۰۰۸ اطمینان پکڑ لیا ہے اور (پھر) جو لوگ ہمارے نشانوں (کی طرف) سے غافل ہو گئے ہیں۔ان (سب) کا ٹھکانا