تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 41
اِلَّا بِالْحَقِّ یعنی اس نے زمین و آسمان کو فضول اور یونہی بے فائدہ نہیں پیدا کیا۔اس کو شوق نہ تھا کہ کرہ پر کرہ بناتا چلا جاتا۔اس نے یہ سب کچھ پائدار مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔پس جسمانی سورج کی طرح روحانی سورج بھی چاہیے تھا۔يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۔وہ اپنی آیات بیان فرماتا ہے اس سے فائدہ صرف وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اس نظام عالم کا علم رکھتے ہیں۔جو سورج چاند کے منازل کو جانتے ہیں۔کیونکہ جس شخص کو ان تغیرات کا علم ہی نہیں وہ عددسنین اور حساب کو کیسے سمجھ سکتا ہے؟ قاعدہ کی بات ہے کہ جس چیز کا انسان کو علم نہ ہو اس سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔اسی طرح روحانی دنیا میں بھی کوئی شخص فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔جب تک روحانی علوم کو نہیں سیکھتا۔اور ان کی حقیقت پر غور نہیں کرتا۔اِنَّ فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِي رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں اور جو کچھ اللہ (تعالیٰ) نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَّقُوْنَ۰۰۷ ( اس میں) متقی لوگوں کے لئے یقیناًیقیناًبہت سے نشان ہیں۔حلّ لُغات۔اِخْتَلَافٌ اِخْتِلَافٌکے دو معنے ہوتے ہیں۔(۱) ضِدُّ اتَّفَاق۔یعنی عدم اتفاق (۲) اِخْتَلَفَ زَیْدٌ عَمْرًا کَانَ خَلِیْفَتَہٗ۔زید عمر کا خلیفہ ہوا۔اس آیت میں پچھلے معنی ہیں۔یعنی رات کے بعد دن کا آنا اور دن کے بعد رات کا آنا۔تفسیر۔یَعْلَمُوْنَ کے مقابل پر یَتَّقُوْنَ لانے کی وجہ پہلی آیت اور اس آیت میں یَتَّقُوْنَ اور یَعْلَمُوْنَ کا فرق کر دیا گیا ہے۔پہلی آیت میں بتلایا تھا کہ علم والے لوگوں کے لئے نشان ہیں اور اس میں فرمایا ہے کہ تقویٰ رکھنے والوں کے لئے آیات ہیں۔اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ دن اور رات کے اختلاف کو جانتا تو ہر شخص ہے ایک چوہڑے کو بھی معلوم ہے کہ یہ دن ہے اور یہ رات ہے۔مگر اس سے فائدہ اٹھانا تقویٰ پر موقوف ہے۔متقی ہی اس تغیر اور اختلاف سے فائدہ اٹھاتا ہے۔مگر پہلی آیت میں منازل شمس و قمر کا ذکر ہے اور ان کا جاننا علم سے تعلق رکھتا ہے۔پس فائدہ بھی عالم ہی اٹھاسکتا ہے۔اس لئے وہاں یَعْلَمُوْنَ رکھا اور اس جگہ یَتَّقُوْنَ فرمایا۔اور فرماتا ہے کہ رات اور دن بے شک دونوں مفید چیزیں ہیں اور ان کا سلسلہ بھی چل رہا ہے کبھی رات آتی ہے اور کبھی دن۔یہی