تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 491
وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا اور آپ (بے شک) ان لوگوں سے( بھی) دریافت کر لیں جن میں ہم (رہتے) تھے اور اس قافلہ سے (بھی) جس فِيْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ۰۰۸۳ کے ساتھ ہم آئے ہیں اور یقین جانیئے کہ ہم( اس بات میں) سچے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلْقَرْیَۃُ اَلْقَرْیَۃُ اِسْمٌ لِلْمَوْضِعِ الَّذِیْ یَجْتَمِعُ فِیْہِ النَّاسُ۔قریہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں۔وَلِلنَّاسِ جَمِیْعًا اور جمع شدہ لوگوں کو بھی قریہ کہتے ہیں۔وَیُسْتَعْمَلُ فِی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا۔اور قریہ ان ہر دو معنے میں استعمال ہوتا ہے۔قَالَ تَعَالٰی وَسْئَلِ الْقَرْیَۃَ قَالَ کَثِیْرٌ مِّنَ الْمُفَسِّرِیْنَ مَعْنَاہُ اَھْلَ الْقَرْیَۃِ مذکورہ بالا آیت میں وَسْئَلِ الْقَرْیَۃَ کے معنے اکثر مفسرین نے اَھْلِ قَرْیَۃ ’’یعنی بستی کے رہنے والے‘‘ کئے ہیں۔وَقَالَ بَعْضُھُمْ بَلِ الْقَرْیَۃُ ھٰھُنَا اَلْقَوْمُ اَنْفُسُھُمْ اور بعض مفسرین نے یوں کہا ہے کہ قریۃ سے مراد خود لوگ ہی ہیں اہل قریہ نہیں۔(مفردات) (مزید تشریح کے لئے دیکھو یونس آیت۹۵) تفسیر۔یہ قول اسی بھائی کا ہے جو اپنے والد کے پاس جاکر جو کچھ کہنا چاہیے اس کی تلقین کررہا ہے۔صداقت انسان کا لہجہ بدل دیتی ہے صداقت کس طرح انسان کا لہجہ ہی بدل دیتی ہے۔وہی بھائی یوسفؑ کی دفعہ فریب کرکے آئے تو کس طرح اپنی بات پر زور دینے سے ہچکچاتے تھے لیکن اب جو بن یامین کی خبر دینے چلے ہیں تو کس زور سے اپنے سچے ہونے کا اظہار کرتے ہیں اور گواہ بھی پیش کرتے ہیں۔قَریہ اور عِیر سے مراد اہل قَریہ اور اَصحابُ الْعِیر ہے اس جگہ اہل مصر کو قریۃ کے نام سے اور قافلہ والوں کو عیر کے نام سے یاد کیا ہے۔حالانکہ عِیْر گدھوں کو کہتے ہیں ایسا انہوں نے اپنی بات پر زور دینے کے لئے کیا۔اصل میں اَھْلُ الْقَرْیَۃِ وَاَصْحَابُ الْعِیْرِ ہے۔مگر ’’اصحاب‘‘ کا لفظ اڑا دیا اور یہ عربی کا عام دستور ہے۔توجہ کھینچنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔مطلب یہ کہ شہر کا بچہ بچہ اور قافلہ کا فرد فرد اس حقیقت سے آگاہ ہے۔آپ کسی سے پوچھ کر دیکھ لیں وہ ہماری تصدیق کرے گا۔