تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 490
لیں تو بھی کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔اس لئے کہ قرآن کریم نے کَبِیْرُھُمْ کہا ہے اَکْبَرُھُمْ نہیں کہا۔بارہ بیٹوں میں سے چوتھا بیٹا بھی یقیناً کبیر کہلاسکتا ہے۔کیونکہ کبیر کے معنے صرف بڑے کے ہیں نہ کہ سب سے بڑے کے۔قرآن مجید اور بائبل کے بیان میں تطبیق اس کے علاوہ یوں بھی بائبل کے بیان اور قرآن مجید کے بیان میں تطبیق دی جاسکتی ہے کہ کبیر سے مراد عمر میں بڑا نہ لئے جائیں بلکہ درجہ میں بڑے کے لئے جائیں۔چنانچہ زیر آیت قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ الخ ۶۶میں ثابت کر آیا ہوں کہ حضرت یعقوب کو جو اعتبار یہودا پر تھا روبن پر نہ تھا۔بن یامین کو انہوں نے بھیجا بھی یہودا کی ضمانت پر تھا۔پس اس معاملہ میں یہودا ہی سب سے بڑے تھے۔اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِيْكُمْ فَقُوْلُوْا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ تم اپنے باپ کی طرف( لوٹ) جاؤ اور( اس سے جاکر) کہو (کہ) اے ہمارے باپ آپ کے (چھوٹے )بیٹے مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ۰۰۸۲ نے ضرور چوری کی ہے۔اور ہم نے( آپ سے) سوائے اس بات کے جس کا ہمیں (ذاتی) علم ہے (قطعاً) کچھ نہیں کہا۔اور ہم( اپنی) نظر سے پوشیدہ بات کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔تفسیر۔اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِيْكُمْ حضرت یوسف کا قول نہیں بعض مفسرین نے اس قول کو یوسف علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے۔یہ تفسیر میری سمجھ سے باہر ہے۔عبارت کا ربط بھی ان معنوں کے خلاف ہے میرے نزدیک تو یہ اس بڑے بھائی کا قول ہے جس کا قول اس سے پہلے درج ہوا ہے۔مَا كُنَّا لِلْغَيْبِ وَ مَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ ہمیں پوری واقفیت نہیں ہم نے ظاہر میں جو کچھ دیکھا اسے بیان کر دیا۔ہم غیب سے واقف نہیں۔دوم یہ کہ یہ فقرہ عہد کے متعلق ہو کہ جب ہم نے عہد کیا تھا اس وقت ہمارے ذہن میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ہم ایسی خبر تیرے پاس لائیں گے۔ہم نے اس وقت عہد دیانت داری سے ہی کیا تھا۔