تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 485

الْعِلْمِ وَالْعَقْلِ بِمَکَانٍ کے معنے ہیں کہ عقل اور علم میں بڑے پایہ اور حیثیت کا تھا۔پس مکان کے معنے حیثیت کے ہوئے۔(اقرب) تفسیر۔ایک جرم سے دوسرے جرم کی جرأت پیدا ہوتی ہے جرم کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آئندہ جرم کی جرأت پیدا ہوجاتی ہے۔یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے پہلے یوسفؑ کو جان سے مارنا چاہا تھا اب ان کی اخلاقی موت کے طالب ہوتے ہیں اور کس ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ بن یامین نے چوری کی تو کیا ہوا اس کا بھائی یعنی یوسفؑ بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے ان کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک سچی توبہ ان کو نصیب نہیں ہوئی تھی۔مفسرین کا حضرت یو سفؑ پر چوری کا الزام مفسرین پر تعجب ہے کہ بجائے یہ کہنے کے کہ بھائیوں نے جھوٹ بولا یوسف کی چوری کی تلاش میں لگ گئے ہیں اور بعض نے تو یہاں تک کمال کیا ہے کہ لکھ دیا ہے کہ جب وہ بچے تھے تواپنی پھوپھی کے ہاں کی بعض چیزیں اٹھا لائے تھے(درمنثور زیر آیت ھٰذا) سُبْحَانَکَ اِنْ ھٰذَا اِلَّابُھْتَانٌ عَظِیْمٌ۔حضرت یوسف ؑکے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ یوسف علیہ السلام کے دل کی جو کیفیت ان کی اس بات کو سن کر ہوئی ہوگی اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے مگر باوجود طاقت کے خاموش ہو گئے اور غصہ پی گئے۔دل میں افسوس کر چھوڑا۔یہ کیسا اعلیٰ درجہ کا مقام ہے۔بہت لوگ بے طاقت ہوکر غصہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کو سزا دینے کی طاقت تھی مگر خاموش ہو رہے اور بھائیوں کے ناپاک الزام کو برداشت کرلیا۔یہ ایک اعلیٰ نمونہ ہے جس کی اتباع یقیناً مومن کو اعلیٰ مراتب پر پہنچا سکتی ہے۔قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ انہوں نے کہا (کہ) اے بادشاہ اس کا ایک بہت بوڑھا باپ ہے (اسے اس کے صدمہ سے بچانے کے لئے) اس اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۷۹ کی بجائے آپ ہم میں سے کسی ایک کو پکڑ لیجئے ہم آپ کو یقیناً محسنوں میں سے سمجھتے ہیں۔حلّ لُغات۔مَکَانٌ یُقَالُ ھٰذَا مَکَان ھٰذَا: اَیْ بَدَلُہٗ۔(اقرب) جب ھٰذَا مَکَانُ ھٰذَا کہا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں یہ اس کی بجائے ہے۔پس مکان کے معنے ہوئے بجائے۔