تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 484
کسی بادشاہ کی حکومت میں رہے تو اس کے قانون کی فرمانبرداری کرے۔حضرت یوسف علیہ السلام نبی تھے لیکن فرعون کے قانون کی پابندی کرتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی شان کے خلاف تھا کہ بادشاہ کے قانون کے خلاف اپنے بھائی کو زبردستی رکھ لیتے۔پس معلوم ہوا کہ کسی کے قانون کے ماتحت رہنا نبی کی شان کے خلاف نہیں بلکہ کسی کی حکومت میں رہ کر قانون شکنی کرنا شان کے خلاف ہے مگر افسوس کہ مسلمان عام طور پر اس مرض میں مبتلا ہیں کہ غیرمذہب کے بادشاہ کی اطاعت کو جائز نہیں سمجھتے۔اس غداری کی روح نے ان کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور ان کی دیانت کی روح کچلی گئی ہے۔مسلمان کو بے شک ترقی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن دھوکے سے نہیں، صفائی اور سچائی سے۔جب کسی کے ملک میں کوئی رہتا ہے تو عملاً اقرار کرتا ہے کہ فرمانبرداری سے گزارہ کرے گا۔ظاہر میں یہ اثر ڈال کر دل میں غداری کا خیال رکھنا بہت بے انصافی ہے اور خود اپنے اخلاق پر برا اثر پڑتا ہے کیونکہ ایسا آدمی اپنے نفس میں سمجھتا ہے کہ میں منافقت کررہا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کی موجودہ بزدلی بہت کچھ اس گندے عقیدہ کی وجہ سے ہے۔فرمانبرداری انسان کو حکومت سے محروم نہیں کر دیتی ہم جس کا چاہتے ہیں درجہ بڑھاتے ہیں۔اس میں یہ بتایا ہے کہ ایسی فرمانبرداری انسان کو حکومت سے محروم نہیں کردیتی۔اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کی ترقی کے لئے خود ہی سامان پیدا کردیتا ہے کیونکہ وہ تمام علموں کا سرچشمہ اور سب سامانوں کا مالک ہے۔قَالُوْۤا اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا انہوں نے (یعنی اس کے بھائیوں نے) کہا (کہ) اگر اس نے چوری کی ہو تو( کچھ عجب نہیں کیونکہ) اس کا ایک يُوْسُفُ فِيْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ بھائی (بھی) پہلےچوری کر چکا ہے اس پر یوسفؑ نے اس (بات کی اصل حقیقت) کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ۰۰۷۸ ان پر اسے ظاہر نہ کیا(ہاں اتنا) کہا (کہ) تم( لوگ) بدترین حیثیت کے (معلوم ہوتے )ہو اور جو بات تم کہتے ہو اسے اللہ( تعالیٰ ہی) بہتر جانتا ہے۔حلّ لغات۔مَکَانًا۔مَکَانًا کَانَ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَقْلِ بِمَکَانٍ۔اَیْ رُتْبَۃٍ وَمَنْزَلَۃٍ۔کَانَ مِنَ