تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 481
اعلان کرنے والے نے بن یامین کی تلاشی بعد میں لی اور علاوہ اس پیالہ کے جو حضرت یوسف علیہ السلام نے خود رکھا تھا ماپنے کا برتن بھی اسباب میں سے نکل آیا۔حضرت یوسف علیہ السلام فوراً سمجھ گئے کہ کیا غلطی ہوئی ہے لیکن انہوں نے اس واقعہ میں الٰہی تدبیر دیکھ کر اس وقت تک خاموشی رکھی جب تک بھائیوں کا قافلہ چلا نہیں گیا اور اس طرح ان کا بھائی ان کے پاس ہی رہ گیا۔قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ انہوں نے کہا( کہ) اللہ( تعالیٰ) کی قسم (جیسا کہ) تمہیں یقیناً علم ہو چکا ہے ہم (یہاں) اس لئے نہیں آئے کہ اس وَ مَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۰۰۷۴قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗ اِنْ كُنْتُمْ ملک میں فسادکریں اور نہ( ہی) ہم چور ہیں۔انہوں نے کہا (کہ) اگر تم جھوٹے (ثابت) ہوئے تو اس( فعل یعنی كٰذِبِيْنَ۰۰۷۵قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ چوری) کی سز ا کیا ہوگی۔انہوں نے کہا( کہ) اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے سامان میں وہ (کٹورا) پایا جاوے جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ۰۰۷۶ وہ( خود ہی) اس (فعل) کا بدلہ ہو ہم( لوگ) ظالموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔تفسیر۔یہ خدا تعالیٰ کی تدبیر تھی کہ بھائیوں نے جوش میں آکر کہہ دیا کہ جس کے اسباب میں سے پیالہ نکلے اسی کو اپنے پاس رکھ لینا۔ان کے منہ سے یہ نہ نکلا کہ جس نے چوری کی ہو اگر وہ یہ کہتے تو حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائی کو شاید نہ رکھ سکتے کیونکہ اس سے اس پر حتمی طور پر چوری کا الزام لگتا ہے لیکن چونکہ انہوں نے لفظ ہی یہ کہے کہ جس کے اسباب میں سے پیالہ نکلے اسے رکھ لینا۔حضرت یوسف علیہ السلام کو بغیر چوری کا الزام لگانے کے بھائی کو پاس رکھنے کا موقع مل گیا۔