تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 478

ہاں ٹھہرایا وَمِنْہُ اللّٰہُمَّ اٰوِنِیْ اِلٰی ظِلِّ کَرَمِکَ وَعَفْوِکَ۔انہی معنوں میں اس دعا میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے کہ اے اللہ! مجھے اپنے کرم اور عفو کے سایہ میں جگہ دے۔(اقرب) (نیز دیکھو ہودآیت ۴۴) لَاتَبْتَئِسْ۔اِبْتَأَسَ بِہٖ۔اِکْتَئَبَ وَاسْتَکَانَ۔غمگین اور دل شکستہ ہوا۔اور لَاتَبْتَئِسْ کے معنے ہیں لَاتَحْزَنْ وَلَا تَشْتَکِ۔نہ غم کر اور نہ شکایت (اقرب) (مزید تشریح کے لئے دیکھو ہودآیت ۳۷)۔تفسیر۔لَا تَبْتَئِسْ کے دو معنے اگر تو یہ سمجھا جائے کہ بھائی کو کوئی علم حقیقت کا نہ تھا تو لَاتَبْتَئِسْ کا ایک تو یہ مطلب لیا جائے گا کہ تجھے جو خیال تھا کہ میں مر گیا ہوا ہوں اور اس کا تجھے غم تھا اب تو اس غم کو دور کر دے کیونکہ میں زندہ موجود ہوں لیکن اگر یہ معنے کئے جائیں کہ بن یامین کو حضرت یعقوبؑ نے اطلاع دے دی تھی تو پھر اس کا یہ مفہوم ہوگا کہ جو تکالیف وہ تجھ کو دیتے رہے ہیں اب خدا تعالیٰ اس سے تجھے نجات دینے والا ہے۔فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ پھر جب اس نے انہیں ان کا سامان دے کر( واپسی کے لئے) تیار کیا تو اس نے (پانی پینے کا ایک) کٹورا( بھی) اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ۰۰۷۱ اپنے بھائی کے بورے میں رکھ دیا پھر( ایسا ہوا کہ) کسی اعلان کرنے والے (شاہی کارندہ) نے اعلان کیا( کہ) اے قافلہ والو تم یقیناً چور ہو۔حلّ لُغَات۔جَھَّزَھُمْ جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ۔اس نے انہیں ان کا سامان دے کر تیار کیا۔(مزید تشریح کے لئے دیکھو یوسف آیت۶۰) اَلسِّقَایَۃُ۔اَلْاِنَاءُ یُسْقٰی بِہٖ۔سِقَایَۃٌ کے معنی ہیں پانی پینے کا برتن جیسے کٹورا، پیالہ وغیرہ۔(اقرب) اَلْعِیْرُ۔قَافِلَۃُ الْحَمِیْرِ ثُمَّ کَثُرَتْ حَتّٰی سُمِّیَتْ بِھَا کُلُّ قَافِلَۃٍ۔عِیْر کے اصل معنے تو گدھوں پر مال لاد کر سفر کرنے والے قافلہ کے ہیں لیکن کثرت استعمال کے ماتحت ہر ایک قافلہ کو عیر کہا جاتا ہے۔(اقرب) اَلْعِیْرُ۔اَلْقَوْمُ الَّذِیْنَ مَعَھُمْ اَحْمَالُ الْمِیْرَۃِ۔غلہ لے جانے والا قافلہ۔(مفردات) اَلرَّحْلُ: بورا (مزید تشریح کے لئے دیکھو یوسف آیت۶۳) تفسیر۔جَعَلَ السِّقَایَۃَ کے دو معنے جَعَلَ السِّقَایَۃَ کے دو معنے ہوسکتے ہیں۔