تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 40

نہ ہوتا جو حرکت کرتا اور کبھی کہیں اور کبھی کہیں نظر آتا تو کبھی بھی ہم میں زمانہ کا احساس پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔اور اگر وہ کرہ خود ایک خاص قانون کے ماتحت حرکت نہ کرتا یا اس کے گرد دوسرے کرہ جات ایک خاص قانون کے ماتحت حرکت نہ کرتے تو وقت کے احساس کو خاص اندازوں میں تقسیم کرنا ناممکن ہو جاتا۔پس تمام تاریخ اور حساب کا معاملہ سورج اور چاند سے تعلق رکھتا ہے۔ایک کی اپنی گردش سے اور دوسرے کے گرد دوسرے سیاروں کی گردش سے۔چاند زمین کے گرد گھومتا ہے اور اس سے مہینوں اور ہفتوں کاا ندازہ ہوتا ہے اور سورج کے گرد زمین گھومتی ہے اور اسی طرح اس کے سامنے گھومتی ہے۔اس سے دنوں اور سالوں کا اندازہ ہوتا ہے۔حساب کا تعلق بھی سیاروں کی گردش سے نہایت گہرا ہے۔ایک لطیف نقطہ اس میں ایک لطیف مذہبی نکتہ بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ سنین سے محنت کے اندازے معلوم ہوتے ہیں۔اور حساب سے نتیجہ کا پتہ لگتا ہے۔ہر کام میں دو اندازے ہوا کرتے ہیں۔اول یہ کہ کتنی محنت کی دوسرے یہ کہ کیا نتیجہ نکلا ہے۔اگر یہ دو اندازے مدنظر نہ رکھے جائیں تو لوگ مقابلہ میں پورے نہیں اترسکتے۔مثلاً ایک شخص ایک سال میں ایک کپڑا بنتا ہے اور دوسرا دو گھنٹے میں تو پہلا دوسرے کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔غرض محنت اور نتیجے کے توازن سے ہی کسی کام کی کامیابی یا ناکامی کا حال معلوم ہوتا ہے اور یہ دونوں باتیں سورج اور چاند سے متعلق ہیں۔پھر جس طرح جسمانی طور پر سورج اور چاند مقرر ہیں تاکہ عدد سنین اور حساب کو ظاہر کریں اسی طرح روحانی طور پر بھی سورج اور چاند ہوتے ہیں یعنی انبیاء۔وہ مذہبی طور پر عددسنین و حساب ظاہر کرتے ہیں۔یعنی ان کے ذریعہ سے ہی روحانی دنیا میں محنت اور اس کے نتائج کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وقت کی قیمت قوم کو معلوم ہوتی ہے۔نبیوں کے بغیر مذہبی دنیا میں کوئی حقیقی احساس پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔اور روحانی ترقیات کے اندازوں سے دنیا بالکل بے خبر رہتی ہے۔بعینہٖ جس طرح سورج اور چاند کے بغیر ظاہری دنیا وقت کے احساس سے اور اس کے اندازوں سے واقف نہیں ہوسکتی۔چوڑھوں کو دیکھ لو یا اسی قسم کی دوسری ادنیٰ قوم کو۔ان میں انسانی پیدائش کی غرض و غایت کا احساس ہی مٹ گیا ہے۔ہزاروں سال سے وہ اس حالت میں ہیں لیکن روحانیت بلکہ دنیوی ترقی تک کا احساس ان میں نہیں ہے۔انہیں کہا بھی جائے تو کہتے ہیں کہ قسمت ہے گویا وہ ایک نہ ختم ہونے والی رات کے اثر کے نیچے غافل پڑے ہیں۔پس انبیاء دنیا کے لئے بطور سورج کے اور بطور چاند کے ہوتے ہیں۔وہ فطرۃ انسانی کی مخفی ترقی کو اور اس کے ارتقاء کو ظاہر کرتے ہیں۔اور ان سے علم حاصل کرکے لوگ روحانی دنیا کی ترقی کی خبر پاتے اور اس کے مطابق عمل کرتے اور نتائج پیدا کرتے ہیں۔اور ان کے بغیر روحانی دنیا میں کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔