تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 471

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِيْهِ مِنْ اس نے کہا (تم ہی بتاؤ) کیا( اب یوسف کے تجربہ کے بعد بھی) میں اس کے متعلق تمہاری طرف سے مطمئن ہو سکتا قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ۰۰۶۵ ہوںسوائے اس کے کہ جس صورت میں پہلے میںاس کے بھائی کے متعلق تمہاری طرف سے مطمئن ہواتھا۔اس لئے (میں اسے) اللہ( تعالیٰ کی حفاظت میں چھوڑ تا ہوں اور وہی سب سے )بہتر حافظ ہے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَا ت۔ھَلْ اٰمَنُکُمْ اٰمَنُ اَمِنَ یَأْ مَنُ سے صیغہ واحد متکلم ہے اَمِنَہٗ کے معنے ہیں اس سے بے خوف ہو گیا۔ھَلْ اٰمَنُکُمْ کیا میں تم سے بے خوف و مطمئن ہو جاؤں۔عَلَیْہِ اس کے متعلق۔عَلٰی اس جگہ متعلق کے معنے دیتا ہے۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ ہی دل کو گند سے اور ظاہر کو برے عمل سے بچاتا ہے حضرت یعقوبؑ نے انہیں توجہ دلائی کہ اب تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت پر یقین کرو کہ دل کو گند سے اور ظاہر کو برے عمل سے وہی بچاتا ہے اور پہلے گناہوں کی بخشش بھی اسی کی طرف سے آتی ہے اور وہ انہیں یہ بھی توجہ دلاتے ہیں کہ نہ میں نے پہلے تم پر یقین کرکے یوسف کو تمہارے ساتھ بھجوایا تھا نہ اب اس کے بھائی کو تم پر اعتبار کرکے بھجواؤں گا۔پہلے بھی میں نے اللہ کے حکم سے اور اس پر توکل کرکے یوسفؑ کو بھجوایا تھا اور اب بھی میرا اعتبار تم پر ویسا ہی ہوگا یعنی میں بھجوا تو دوں گا لیکن تم پر اعتبار کرکے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت اور اسی پر توکل کرکے بھجواؤں گا۔وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی پونجی ان کی طرف واپس کر دی گئی ہے (اس پر) اِلَيْهِمْ١ؕ قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِيْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ انہوںنے (اپنے باپ سے) کہا( کہ) اے ہمارے باپ( اس سے بڑھ کر) ہم کیا چاہ سکتے ہیں (دیکھئے) یہ