تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 470

لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُوْنَهَاۤ پہچا ن تو انہوں نے بہرحال لینا ہی تھا کیونکہ ان کا اپنا مال تھا مگر اس جگہ پہچاننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس حسنِ سلوک کی قدر کریں۔کہتے ہیں فُلَانٌ لَایَعْرِفُ الْاِحْسَانَ۔وہ احسان کی قدر نہیں کرتا پس حضرت یوسف علیہ السلام کی مراد یہ ہے کہ وہ احسان کی قدر کریں اور واپس آنے کی رغبت ان میں پیدا ہو۔آنحضرت صلعم کی حضرت یوسفؑ سے سولہویں مشابہت حضرت یوسف کی طرح آنحضرت صلعم بھی اپنے بھائیوں سے ملنے کے لئے بے قرار تھے جیسا کہ ان آیات میں حضرت یوسف علیہ السلام کے جذبۂ محبت کا ذکر کیا گیا ہے کہ باوجود بھائیوں کی مخالفت کے وہ اپنے بھائیوں کی ملاقات کے لئے بیقرار تھے یہی حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔آپؐ کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ(الشعراء:۴)کیا تو اس غم میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنی جان کو ہلاک کر دے گا۔غرض حضرت یوسفؑ کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی باوجود اہل مکہ کی سخت عداوت کے ان کی ہلاکت کی خواہش کی جگہ یہ زبردست خواہش تھی کہ وہ ایمان لاکر آپؐ سے مل جائیں۔فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ پس جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہا (کہ) اے ہمارے باپ ہمیں (آئندہ کے لئے غلہ) ماپ (کر فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۰۰۶۴ دینے) سے محروم کردیا گیا ہے اس لئے (اب) ہمارے بھائی (بن یامین) کو( بھی) ہمارے ساتھ بھیج کہ ہم (پھر غلّہ) ماپ (کرا کے) لے سکیں اور ہم یقیناً اس کی حفاظت کریں گے۔تفسیر۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے۔اب تک برادران یوسفؑ کو اپنی قوت و طاقت پر بھروسہ ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ اپنا ضعف ان پر ظاہر ہوچکا ہے۔دین کے احساس کی کمزوری کا نتیجہ دین کا احساس کمزور ہوتو انسان کی یہی حالت ہوتی ہے۔وہ سچے دل سے اپنے اندر کبر یا غرور محسوس کرتا ہے یا پھر مایوس ہو جاتا ہے۔درمیانی راہ جو توکل کی ہے جس میں نہ کبر ہوتا ہے نہ مایوسی اس طرف نہیں آتا۔برادرانِ یوسفؑ بھی ابھی اس مقام پر ہیں مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ میں مایوسی اور اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ میں اپنی طاقت کے گھمنڈ کا اظہار کرتے ہیں۔مومن کو اس حالت سے بچنا چاہیے۔