تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 466

دوسرا سوال اس نے پوچھا کیا وہ اس دعویٰ سے پہلے کبھی جھوٹ بولتا تھا۔ابوسفیان نے کہا کہ نہیں۔تیسرا سوال۔پھر اس نے کہا کیا اس نے کبھی معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ابوسفیان نے کہا کہ نہیں۔مگر حال میں ہی اس کا ایک معاہدہ ہمارے ساتھ ہوا ہے معلوم نہیں وہ اس کے متعلق کیا کرے گا۔ا بوسفیان کہتے ہیں کہ میں زیادہ سے زیادہ جو بات آپؐ کے خلاف کرسکا وہ یہی تھی۔کیونکہ میںڈرتا تھا کہ میرے ساتھی جھٹلا نہ دیں۔چوتھا سوال پھر اس نے پوچھا کہ اسے بڑے لوگ مانتے ہیں یا چھوٹے۔ابوسفیان نے کہا کہ چھوٹے۔اسی طرح کی بہت سی باتیں ہوئیں اور آخر ہرقل نے کہا کہ اگر یہ باتیں صحیح ہیں تو وہ ضرور اس علاقہ کا حاکم ہو جائے گا۔جہاں میں اس وقت ہوں۔آنحضرت ؐ کے متعلق پہلی کتب میں شام کو فتح کرنے کی پیشگوئی تھی کیونکہ پہلی کتب میں یہ پیشگوئی تھی کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم شام کو فتح کریں گے اور شاہ روم اس وقت شام میں تھا۔اس کے اس فقرہ سے درباریوں میں شور پڑ گیا اور ابوسفیان گھبرا کر باہر نکلا اور نہایت تعجب سے کہا لَقَدْاَمِرَاَمْرُ ابْنِ اَبِیْ کَبْشَۃ (بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ )کہ ہم نے تو پہچانا ہی نہیں۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت تو بہت بڑھ گئی ہے اور اس کا کام بہت ترقی کر گیا ہے۔آنحضرت ؐ کو ابن ابی کبشہ پکارنے کی وجہ (مکہ والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحقیر کے طور پر ابن ابی کبشہ کہا کرتے تھے ابو کبشہ قبیلہ خزاعہ میں سے ایک شخص تھا جس نے بت پرستی چھوڑ کر ستارہ پرستی شروع کردی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن ابی کبشہ کہنے سے مکہ والوں کی مراد یہ تھی کہ جس طرح ابوکبشہ نے آبائی دین کو چھوڑ دیا تھا اسی طرح محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی آبائی دین کو چھوڑ دیا ہے اس لئے یہ گویا اس کا روحانی بیٹا ہے) غرض وہاں آکر ان لوگوں کی آنکھیں کھلیں ورنہ مکہ میں وہ آپ کی حیثیت نہیں جانتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی حقیقت معلوم تھی۔وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اور جب اس نے انہیں ان کا سامان دے کر( واپسی کے لئے) تیار کیا تو( ان سے) کہا (کہ) تمہارے باپ کی اَبِيْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّيْۤ اُوْفِي الْكَيْلَ وَ اَنَا خَيْرُ طرف سے جوتمہارا ایک بھائی ہے( اب کے) اسے( بھی اپنے ساتھ) میرے پاس لانا کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں