تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 39

ٍٍ تَفْصِیْلٌ:یُفَصِّلُ فَصّلَ کا مضارع ہے۔جس کے معنی ہیں جَعَلَہٗ فَصُوْلًا مُتَمَایِزَۃً کسی چیز کو الگ الگ ٹکڑوں میں کر دیا۔اور جب یہ لفظ کلام کے متعلق استعمال ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں بَیَّنَہ یعنی اسے اچھی طرح کھول کر بیان کر دیا۔اور فَصَّلَ اَجْمَلَ کی ضد بھی ہوتا ہے یعنی اس میں کسی قسم کا اخفاء یا اجمال نہ رہنے دیا۔(اقرب) فرمایا هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً وَالْقَمَرَ نُوْرًا۔وہ خدا ہی ہے جس نے سورج کو ضیاء بنایا یعنی ذَاضِیَاءٍ (روشنی والا) بنایا اور چاند کو نور یعنی ذَانُورٍ (نور والا) بنایا۔تَقْدِیْرٌ قَدَّرَہُ اصل میں لام کے صلہ کے ساتھ آتا ہے۔اور قَدَّرَلَہٗ بولتے ہیں۔یعنی اس کے لئے یہ چیز اندازہ کر دی یا اس کے لئے یہ چیز مقرر کر دی تو قَدَّرَہٗ کے معنی قَدَّرَلَہٗ کے ہوں گے۔یعنی چاند کے لئے منازل مقرر کر دیں۔مگر کبھی کبھی محاروہ میں قَدَّرَ کا لفظ جَعَلَ اور صَیَّر کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اور یہ الفاظ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔اور اس صورت میں ہم لام مقدر نہ نکالیں گے۔بلکہ جیسے وہاں ذَاضِیَاءٍ اور ذَا نُورٍ مراد ہے اسی طرح یہاں ذَامَنَازِلَ مراد ہوگا۔یعنی اس (ذَامَنَازِلَ ) کو جَعَلَ کا مفعول ثانی قرار دیں گے۔اور معنی یہ ہو جائیں گے کہ ان میں سے ہر ایک کو منزلوں والا بنایا ہے۔ہٗ کی ضمیر دونوں طرف جاتی ہے۔یعنی سورج اور چاند دونوں کے لئے منازل مقرر ہیں۔سورج بھی درحقیقت حرکت کرتا ہے۔گو زمین کے گرد گول حرکت نہیں کرتا جیسا کہ پہلے زمانے کے لوگ سمجھتے تھے۔تحقیقات جدیدہ سے یہ ثابت ہے کہ سورج نہیں بلکہ زمین گھومتی ہے لیکن تاہم سورج اپنے سیاروں سمیت کسی طرف کو جارہا ہے اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ حرکت کتنی لمبی ہے۔ممکن ہے کہ یہ حرکت ایک نہایت وسیع دائرہ کی صورت میں ہو جس کا اندازہ لاکھوں سالوں میں بھی نہ کیا جاسکتا ہو۔تفسیر۔کرّوں کی حرکت ہی مقدار فعل اور زمانہ کے علم کا ذریعہ ہے فرمایا لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَ الْحِسَابَ۔دیکھو یہاں کیسی لطیف بات بیان فرمائی ہے۔ہر حرکت کا اندازہ کرنے کے لئے اس کے مقابل کی چیزوں کی نسبت ہی معیار ہوا کرتی ہے۔مثلاً ہم ریل میں سفر کریں اور جس رفتار سے ریل چل رہی ہو اسی رفتار سے تمام اردگرد کی چیزیں بھی حرکت کریں۔تو ہمیں ذرا بھی محسوس نہ ہوگا کہ ہم نے حرکت کی ہے۔بلکہ جہاں بیٹھے تھے وہیں اپنے آپ کو سمجھیں گے۔تو گویا چلنے کی کیفیت نسبت ہی سے معلوم ہوتی ہے۔اگر نسبت موجود نہ ہوتی تو کیفیت بھی معلوم نہ ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہےلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَ الْحِسَابَ کہ ہم نے سورج اور چاند کی منازل اس لئے مقرر کی ہیں تاکہ تم عدد سنین اور حساب کو جان سکو۔یعنی ان خارجی وجودوں کی حرکت کو دیکھ کر معلوم کرسکو کہ تم پر ایک زمانہ گزر گیا ہے اور تم اس جگہ پر نہیں رہے جہاں پہلے تھے۔اگر یہ فرق نہ ہوتا یعنی زمین سے باہر کوئی اور کرہ