تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 461
وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِيْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ اور بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے( یعنی یوسف کو) میرے پاس لاؤ۔(تاکہ) میں اسے اپنے (خاص کاموں کے) لئے قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ۰۰۵۵ منتخب کر لوں(جب یوسفؑ آئے اور) جونہی اس نے (یعنی بادشاہ نے) اس سے بات چیت کی (تو ان کو ہر طرح قابل پا کر یوں) بولا کہ تو آج (سے) ہمارے ہاں معزز مرتبہ والا (اور ہر طرح سے) اعتباری آدمی( شمار) ہو گا۔حلّ لُغَات۔اِسْتَخْلَصَ: اِسْتَخْلَصَ الرَّجُلَ اخْتَصَّہُ بِدُخْلُلِہِ۔کسی کو اس کی باطنی صفائی کی وجہ سے خاص کرلیا۔وَالشَّیءَ اِخْتَارَہُ۔کسی چیز کو منتخب کرلیا۔چن لیا۔(اقرب) مَکِیْنٌ: مَکُنَ فُلَانٌ عِنْدَالسُّلْطَانِ مَکَانَۃً عَظُمَ عِنْدَہُ وَارتَفَعَ وَصَارَذَا مَنْزِلَۃٍ۔بادشاہ کے ہاں صاحبِ قدر و منزلت ہو گیا اور ایسے انسان کو مکین کہتے ہیں۔اس کی جمع مکناء ہے۔(اقرب) تفسیر۔بادشاہ کی عزیز مصر کو ایک لطیف سرزنش بادشاہ نے اس فقرہ سے ایک لطیف سرزنش عزیز کو جس کے پاس یوسف علیہ السلام رہے کی ہے اور بتایا ہے کہ ایسے شخص کی تم قدر نہیں کرسکے۔اب میں اسے خود اپنے قرب میں جگہ دے کر قدر کروں گا۔یہ تو ملاقات سے پہلے کی حالت تھی۔جب ملاقات کی تو یوسف علیہ السلام کا اور بھی گرویدہ ہو گیا ور کہا آپ کو میرے دربار میں خاص منزلت ملے گی اور امین کہہ کر بتایا ہے کہ میں آپ پر شبہ نہیں کروں گا اور آپ پر پوری طرح اعتبار کروں گا۔بادشاہ کے ہاں حضرت یوسفؑ کا تقرب بائبل میں لکھا ہے کہ بادشاہ نے کہا سوائے تاج کے اور سب کچھ تجھ کو دوں گا اور لکھا ہے کہ بادشاہ نے اپنی سواری کے بعد جو دوسرے درجہ کی سواری تھی وہ حضرت یوسفؑ کو سواری کے لئے دی بلکہ شہر میں اعلان کرایا کہ میرے حکم کے بعد دوسرے درجہ پر حکومت اس شخص کی ہوگی۔