تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 458
حضرت یوسفؑ کا بیان کہ اگر میں خائن ہوتا تو میری یہ نصرت و تائید الٰہی نہ ہوتی اس آیت سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خائنوں کی نصرت نہیں کرتا اور چونکہ یوسفؑ کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت تھی کہ پہلے بادشاہ کے دو خاص خدام کو خوابیں دکھائیں پھر خود بادشاہ کو خواب دکھائی پس وہ کہتے ہیں کہ میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا میری مدد کرنا بلاوجہ نہ تھا بلکہ میں حق پر تھا اس لئے وہ میری مدد کررہا تھا۔وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا اور میں اپنے نفس کو (ہر قسم کی غلطی سے) بری قرار نہیں دیتا کیونکہ( انسانی) نفس سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم رَحِمَ رَبِّيْ١ؕ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۵۴ کرےبری باتوں کا حکم دینے پر بہت دلیر ہے۔میرا رب( کمزوریوں پر) بہت پردہ ڈالنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَمَّارَۃٌ : اَمَّارَۃٌ امر سے بنا ہے اور یہ مبالغہ کا مؤنث کا صیغہ ہے۔مذکر کا صیغہ اَمَّارٌ ہے جس کے معنے ہیں اَلْکَثِیْرُ الْاَمْرِ۔بہت حکم دینے والا۔وَالْمُغْرِیْ کسی کام کے کرنے کے لئے اکسانے والا۔چونکہ نفس عربی میں مؤنث ہے اس لئے اَمَّارَہ مؤنث کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔السُّوْءُ: کُلَّ مَا یَغُمُّ الْاِنْسَانَ مِنَ الْاُمُوْرِ الدُّنْیَوِیَّۃِ والْاُخْرَوِیَّۃِ وَمِنَ الْاَحْوَالِ النَّفْسِیَّۃِ وَالْبَدَنِیَّۃِ وَالْخَارِجَۃِ مِنْ فَوَاتِ مَالٍ وَجَاہٍ وَفَقْدِ حَمِیْمٍ۔دنیوی و اخروی معاملات اور نفسی و بدنی حالات یا ان کے علاوہ اور خارجی واقعات یعنی مال و عزت کے کھوئے جانے یا دوست و احباب کی علیحدگی کی وجہ سے جو امور انسان کو اندوہ گین بنائیں ان سب کو سُوء کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔(مفردات) تفسیر۔نبی کی فطرت پاکیزہ ہوتی ہے نبی کی فطرت بھی کیا ہی پاکیزہ ہوتی ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کہتے ہیں کہ میری یہ غرض نہ تھی کہ میں یہ ظاہر کروں کہ میں پاک ہوں بلکہ میں ایک تو یہ بتانا چاہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے اور کبھی وہ ان خائنوں کی تدابیر کو کامیاب نہیں ہونے دیتا جو اس کے ماموروں کے مقابل پر کھڑے ہوتے ہیں۔یوسفؑ کو اپنی برأت میں اپنی بڑائی مطلوب نہ تھی پس میں نے جو کچھ تدبیر کی ہے اپنی بڑائی کے اظہار