تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 456
عزیز کی بیوی کا خودبخود بول کر حضرت یوسف ؑ کی بریت کا اقرار کرنا اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بادشاہ نے ان عورتوں سے ایسے الفاظ میں بات دریافت کی جن سے وہ سمجھ گئیں کہ بادشاہ یوسف علیہ السلام کی بات کو دوسرے کی بات پر مقدم کرتا ہے تو انہوں نے زیادہ اخفاء اپنے مصالح کے خلاف جانا اور حق کو ظاہر کردیا۔لیکن جواب ایسا دیا جس سے یوسفؑ کی بریت ظاہر ہو اور عزیز کی بیوی پر بھی کوئی الزام نہ آئے۔لیکن اسے خود ہی فکر پڑ گئی اور اسے خیال گزرا کہ اب بات کھل جائے گی اور اب یہ عورتیں میرے قصور کا بھی اظہار کر دیں گی۔پس میں خود ہی کیوں نہ اپنے قصور کا اقرار کرلوں تاکہ اگر بادشاہ کا ارادہ سزا دینے کا ہو تو اس سے محفوظ رہوں اس لئے وہ بغیر سوال کرنے کے آپ ہی بول پڑی کہ الْـٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١ٞ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ۔اب تو حق ظاہر ہو گیا ہے حقیقت یہی ہے کہ میں نے ہی یوسف علیہ السلام کو ان کے منشاء کے خلاف ایک برے فعل کے ارتکاب کی تحریص دلائی تھی۔ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّيْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ (اور یوسف نے اسے یہ بھی کہا کہ) یہ( بات میں نے) اس لئے (کہی )ہے کہ اس کو( یعنی عزیز کو) علم ہو جائے کہ كَيْدَ الْخَآىِٕنِيْنَ۠۰۰۵۳ میں نے (اس کی)غیر موجودگی میں اس کے حق میں خیانت نہیں کی۔اور یہ کہ( میرا ایمان ہے کہ) خیانت کرنے والوں کی( مخالفانہ) تدبیر کو اللہ (تعالیٰ) کامیاب نہیں کرتا۔حلّ لُغَات۔خَانَ خَانَہٗ فِی کَذَا یَخُوْنُہٗ خَوْنًا وَخِیَانَۃً اُوْتُمِنَ فَلَمْ یَنْصَحْ۔امانت میں خیانت کی اَلْعَہْدَنَقَضَہٗ۔عہدشکنی کی۔یُقَالُ خَانَہُ الْعَہْدَ وَالْاَمَانَۃَ اَیْ فِی الْعَہْدِ وَالْاَمَانَۃِ فَھُوَ خَائِنٌ یعنی خَانَہُ فِی الْعَہْدِ اور خَانَہٗ فِی الْاَمَانَۃِ کی بجائے خَانَہُ الْعَہْدَ اور خَانَہُ الْاَمَانَۃَ بھی بولتے ہیں اور دونوں صورتوں میں معنے ایک ہی رہتے ہیں اور وہ یہ کہ عہد کو توڑا اور امانت میں خیانت کی۔(اقرب) ھُدٰی اِنَّ اللّٰہَ لَایَھْدِیْ کَیْدَ الْخَائِنِیْنَ اَیْ لَایَنْفُذُہٗ وَلَا یَصْلِحُہٗ۔یعنی اس آیت میں لَایَھْدِیْ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں اور غدّاروں کی تدبیر اور ان کے منصوبہ کو کامیاب نہیں کرتا۔(تاج) اَلضِّلَالُ فَقْدُ مَایُوَصِّلُ اِلَی الْمَطْلُوْبِ۔ضِلَالٌ کے معنے ہیں مطلوب چیز تک پہنچنے کے ذرائع اور اسباب کو کھو بیٹھنا اور اس بنا پر اس کو نہ پاسکنا۔وَتُضَادُہُ الْھِدَایَۃُ اور ہَدَایۃٌ اس کی ضد ہے۔پس ہدایت کے معنے ہیں