تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 455
اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰۵۲ کی تھی (یہ سن کر) عزیز کی بیوی نے کہا (کہ) اب سچائی بالکل کھل گئی ہے میں نے (ہی) اس سے اس کی مرضی کے خلاف (ایک برا) فعل کرانے کی کوشش کی تھی اور وہ یقیناً راستبازوں میں سے ہے۔حلّ لُغَات۔خَطْبٌ اَلْخَطْبُ اَلشَّانُ۔خاص حالت جو کسی لحاظ سے اہمیت رکھتی ہو۔اَلْاَمْرُ صَغُرَ اَوْ عَظُمَ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔سَبَبُ الْاَمْرِ۔وہ بات جس کی وجہ سے یا جس کے لئے کوئی کام یا کوئی معاملہ عمل میں لایا جائے۔قَالَ مَاخَطْبُکَ اَیْ مَا شَانُکَ الَّذِیْ تَخْطُبُہُ وَمَا الَّذِیْ حَمَلَکَ علیہِ۔چنانچہ جب کسی سے کہیں کہ مَاخَطْبُکَ تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تم نے کس غرض سے فلاں کام کیا ہے اور کیا بات تمہارے پیش نظر ہے۔(اقرب) الخَطْبُ۔اَلْحَالُ۔حالت۔اَلْاَمْرُ الَّذِیْ یَقَعُ فِیْہِ الْمُخَاطَبَۃُ وہ معاملہ جس کے متعلق باہم گفتگو ہو۔(تاج) حَصْحَصَ حَصْحَصَ الْحَقُّ۔بَانَ بَعدَ کتْـمَانِہ۔حق بات جو پہلے مخفی تھی ظاہر ہو گئی اور اصل حقیقت کھل گئی۔(اقرب) تفسیر۔بادشاہ کو یوسفؑ کی بریت اور عورتوں کی چالاکی کایقینی علم ہو چکا تھا معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ کو خوابوں کی تعبیر سن کر حضرت یوسفؑ کی پاکیزگی کا اس قدر یقین ہو گیا تھا کہ جب اس نے یوسف علیہ السلام پر الزام سنا تو تحقیق سے پہلے ہی سمجھ لیا کہ یہ الزام غلط ہے۔اسی وجہ سے اس نے عورتوں سے سوال کرتے وقت یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کہ ’’جب تم نے یوسف کو اس کے منشاء کے خلاف بہکانا چاہا تھا‘‘۔پھسلانے کی کوشش میں دوسری عورتیں بھی حصہ دار تھیں اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں عزیز کی بیوی کی سہیلیاں ہونے کے سبب سے ان عورتوں نے بھی حضرت یوسفؑ کو عزیز کی بیوی کی تائید میں پھسلانا چاہا تھا۔کیونکہ بادشاہ کا یہ کہنا کہ تم نے ورغلانا چاہا تھا بتاتا ہے کہ بادشاہ کو ایسی روایت پہنچی تھی مگر یہ یقینی ہے کہ انہوں نے یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف مائل نہیں کرنا چاہا بلکہ عزیز کی بیوی کی طرف مائل کرنا چاہا ہے۔ممکن ہے یوں کہا ہو کہ دیکھو یہ تم کو قید کرا دے گی تم اس کی بات مان جاؤ مگر بہرحال جو کچھ انہوں نے کیا وہ عزیز کی بیوی کے لئے کیا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کا بھی علیحدہ ذکر قرآن کریم میں آتا۔ضمناً بادشاہ کے منہ سے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ پہلے واقعہ کا حصہ ہی تھا۔