تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 454
کرے۔ایک نبی اگر قیدخانہ میں ہو تو وہ یا تو تبلیغ نہیں کرسکے گا یا اس کی تبلیغ محدود ہوگی۔اگر وہ اس نقطۂ نگاہ سے اپنی آزادی کو دیکھے تو اس کی بہت بڑی قربانی ہوگی۔اگر وہ بغیر صفائی کے قید سے نکل آئے اور اپنے کام کے مقابلہ میں اپنی عزت کی پرواہ نہ کرے۔اگر آنحضرت ؐ کو ایسا موقع پیش آتا تو آپ کیا کرتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے لئے آخری طریق کو پسند کیا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ لَوْ لَبِثْتُ فِی السِّجْنِ مَالَبِثَ یُوْسفُ لَاَ جَبْتُ الدَّاعِیَ اگر میں اس قدر دیر قید میں رہتا جس قدر یوسفؑ رہے تھے تو میں بلانے والے کی بات کو قبول کرلیتا۔(بخاری کتاب التفسیر سورۃ یوسف باب قولہ فلما جاءہ الرسول۔۔) اور مسند احمد حنبل میں ابوہریرہؓ سے ہی روایت ہے لَاَسْرَعْتُ الِاجَابَتَ وَمَا ابْتَغَیْتُ الْعُذْرَ۔میں فوراً بات قبول کرلیتا اور یہ عذر نہ کرتا کہ پہلے میری برأت کرو۔آنحضرت ؐ کا نقطہ نگاہ بہت اعلیٰ اور بلند ترہے ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ دونوں مقامات میں سے وہ مقام زیادہ بلند ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے کیونکہ گو عزت کی حفاظت ایک اعلیٰ درجہ کا کام ہے لیکن اگر اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ تبلیغ کے کام میں ہرج نہ ہو یا اور کسی ایسے کام کے لئے جو قومی یا شرعی یا دینی ہو انسان اپنی عزت کو قربان کردے اور اپنے پر الزام کو رہنے دے تو یہ شخص یقیناً اس شخص سے جو اپنی عزت کی حفاظت کا مطالبہ کسی نیک ارادہ سے کرتا ہے زیادہ اعلیٰ مرتبہ پر ہے۔قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ (یہ پیغام سن کر) اس نے (یعنی بادشاہ نے ان عورتوں سے) کہا (کہ) تمہارا (وہ) معاملہ جب کہ تم نے یوسف سے حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ اس کی مرضی کے خلاف( ایک برا) فعل کروانے کی کوشش کی تھی (اصل میں) کیا تھا انہوں نے کہا (کہ) وہ الْعَزِيْزِ الْـٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١ٞ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اللہ (تعالیٰ) کی خاطر (بدی کے ارتکاب سے) ڈرا تھا (اور) ہم نے اس میں کوئی بھی برائی (کی بات) نہیںمعلوم