تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 453

عزیز مصر کی بیوی کی سہیلیوں نے واقعی اپنے ہاتھ کاٹے تھے حضرت یوسف علیہ السلام کے اس قول سے کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہر میں بھی ہاتھ کاٹنے کا کوئی واقعہ ہوا تھا۔یا تو واقعہ میں ان میں سے کسی کا ہاتھ باتیں کرتے زخمی ہو گیا تھا جس کی طرف حضرت یوسف علیہ السلام نے اشارہ کیا ہے اور یا پھر انہوں نے منہ سے کہا ہوگا کہ ہم نے تو اس شخص کو بدنام کرکے اپنے ہاتھ کاٹ لئے ہیں۔جسے انہوں نے یاد دلایا ہے۔اگر صرف قرآن کریم نے ان کی کیفیت کو ان الفاظ سے ادا کیا ہوتا تو حضرت یوسف علیہ السلام کے منہ سے یہ فقرہ نہیں نکل سکتا تھا۔ایک فعل ایک نقطہ نگاہ کی رو سے نیکی ہوتا ہے اور دوسرے نقطہ نگاہ کی رو سے بدی یہاں ایک عجیب نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے جسے لوگ عام طور پر نہیں سمجھتے اور وہ یہ کہ نیکیاں اور بدیاں بھی مختلف نقطہ ہائے نگاہ کے ماتحت ہوتی ہیں اور بعض دفعہ بالکل متخالف نظر آنے والے معاملات دونوں ہی نیکیاں یا دونوں ہی بدیاں ہوتے ہیں۔اس آیت میں حضرت یوسف علیہ السلام کے جس فعل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ بھی اسی قسم کے فعلوں میں سے ہے۔جس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہ نے بلایا ہے ان کے لئے دو ہی راستے کھلے تھے یا فوراً نکل آتے یا پہلے برأت کرا کے نکلتے۔یہ دونوں فعل بظاہر متضاد ہیں لیکن دو مختلف نقطۂ نگاہ کے رو سے یا تو یہ دونوں فعل نیکی بن جاتے ہیں اور یا دونوں بدی اور وہ اس طرح پر کہ اگر حضرت یوسف علیہ السلام تکبرا ور خودپسندی کے ماتحت ایسا کرتے کہ پہلے لوگ گناہ کا اقرار کریں میں پھر نکلوں گا تو یہ گناہ ہو جاتا۔اسی طرح اگر وہ یہ طریق اختیار کرتے کہ اپنے نفس کے آرام کے لئے بغیر کسی دینی فائدہ کے مدنظر رکھنے کے فوراً باہر نکل آتے تو بھی یہ گناہ ہوتا۔حضرت یوسفؑ کا نقطہ نگاہ لیکن انہوں نے نکلنے سے انکار کیا نہ اس لئے کہ وہ متکبر تھے بلکہ جیسا کہ انہوں نے خود بتایا ہے محض اس لئے کہ ان کا ایک محسن اس وہم میں مبتلا نہ رہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس سے غداری کی ہے اور اس اعلیٰ جذبہ کی وجہ سے ان کا یہ فعل ایک اعلیٰ درجہ کی نیکی تھا۔آنحضرتؐ کا نقطہ نگاہ مگر ایک چوتھا نقطۂ نگاہ بھی ہے جس کے ماتحت فوراً نکل آنا ایک نیکی بن جاتا ہے اور اس نقطۂ نگاہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا ہے۔یہ نقطۂ نگاہ اپنے فرض منصبی کے پورا کرنے کا خیال ہے۔ایک نبی یا معلم خدا تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو تبلیغ کرنے کے لئے مامور ہوتا ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی ہر چیز کو اس غرض کے لئے قربان کردے۔حتیٰ کہ اگر عزت اور نیک نامی بھی قربان کرنی پڑے تو وہ اس کی پرواہ نہ