تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 452

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اور بادشاہ نے (یہ بات سن کر ان سے )کہا (کہ) تم اسے میرے پاس لے آؤ پس جب (بادشاہ کا) پیغام رساں اِلٰى رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ١ؕ اس کے پاس آیا تو اس نے (یعنی یوسفؑ نے اس سے) کہا (کہ) تو اپنے آقا کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ۰۰۵۱ (کہ) جن عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے ان کی( اس وقت) کیا کیفیت ہے میرا رب ان کے منصوبے کو یقیناً خوب جاننے والا ہے۔حلّ لُغَات۔بَالٌ۔اَلْبَالُ۔اَلْحَالُ۔حالت کیفیت۔اَلْقَلْبُ۔دل (اقرب) اَلْبَالُ: اَلْحَالُ الَّتِیْ یُکْتَرَثُ بِھَا۔توجہ طلب حالت اور کیفیت…… وَلِذٰلِکَ یُقَالُ مَابَالَیْتُ بِکَذَا بَالۃً اَیْ مَااکْتَرَثْتُ بِہٖ۔چنانچہ مَابَالَیْتُ بِکَذَا بَالَۃً کے معنے ہوتے ہیں میں نےفلاں بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی اور اس کی طرف توجہ نہ کی۔قَالَ کَفَّرَ عَنْہُمْ سَیِّئَاتِھِمْ وَاَصْلَحَ بَالَھُمْ۔قَالَ فَمَابَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی اَیْ حَالُہُمْ وَخَبَرُھُمْ اور قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیات میں بال کے معنے حال اور خبر ہی کے ہیں۔وَیُعَبَّرُ بِالْبَالِ عَنِ الْحَالِ الَّذِیْ یَنْطَوِیْ عَلَیْہِ الْاِنْسَانُ اور بَالَ سے مراد اندرونی اور قلبی کیفیت کے بھی ہوتے ہیں۔فَیُقَالُ خَطَرَ کَذَا بِبَالِیْ چنانچہ اسی بنا پر خَطَرَکَذَا بِبَالِیْ کہا جاتا ہے جس کے معنے ہیں فلاں بات میرے دل میں آئی۔(مفردات) تفسیر۔بادشاہ نے یہ دیکھ کر کہ اس کے ہم مذہب کاہن تو تعبیر کرنے سے رہ گئے اور یوسف علیہ السلام نے ایک نہایت اعلیٰ تعبیر بیان کردی اور مصیبت کا علاج بھی بتا دیا اور اپنے ساقی سے یہ سن کر کہ پہلے بھی ان کی بتائی ہوئی تعبیریں پوری ہوچکی ہیں انہیں قید سے آزاد کرنا چاہا لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کی غیرت نے برداشت نہ کیا کہ وہ اپنی براء ت کرائے بغیر قید سے نکلتے۔معلوم ہوتا ہے کہ انہیں یہ خیال ہوا کہ اگر میں اس وقت نکل آیا تو کسی آئندہ زمانہ میں لوگ میری شکایت بادشاہ سے کردیں گے اور وہ ان امور کو شاید سچا سمجھ لے۔اس لئے مناسب ہے کہ ابھی سے سب معاملہ بادشاہ کے سامنے آجائے تاکہ وہ تحقیق کرکے اپنی تسلی کرلے اور آئندہ کسی کو ریشہ دوانی کا موقع نہ ملے۔