تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 451
جائے گی (۳) ان کی فریاد سنی جائے گی اور ان کی تنگی دور کی جائے گی۔پس یہ کہنا کہ قرآن کریم نے مصر میں بارش کا ذکر کیا ہے۔حالانکہ وہاں بارش نہیں ہوتی۔مغالطہ دینا ہے۔جب ان الفاظ کے دوسرے معنے موجود ہیں تو کیوں وہ معنے نہ کئے جائیں۔ہمارے نزدیک اس آیت میں بارش کی خبر نہیں دی گئی بلکہ یہ بتایا ہے کہ پھر لوگوں کی مدد کی جائے گی یا یہ کہ فریاد سنی جائے گی اور ان کی تنگی دور کردی جائے گی۔لفظ یُغَاثُ کے اختیار کرنے میں حکمت اگر یہ سوال کیا جائے کہ ایسا مشتبہ لفظ استعمال کیوں کیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو کوئی اشتباہ ہے ہی نہیں جب عربی میں ایک لفظ ایک خاص معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے تو قرآن کریم کیوں اس لفظ کو استعمال نہ کرے۔دوسرے ہم کہتے ہیں کہ اس دو معنوں والے لفظ کے استعمال میں ایک حکمت تھی اور وہ یہ کہ جیسا کہ بتایا جاچکا ہے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کے بیان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی بھی پیشگوئی تھی اور اس قسم کا قحط آپؐ کے زمانہ میں بھی پڑنے والا تھا لیکن فرق یہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں تو اس قحط کا علاج دریا کی طغیانی سے ہونا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بارش کے ساتھ ہونا تھا۔پس قرآن کریم نے جس کا ہر لفظ حکمتوں سے پر ہوتا ہے ایسا لفظ استعمال کیا کہ وہ ایک ہی لفظ دونوں زمانوں پر چسپان ہوسکتا ہے۔ایک مادہ سے اس کے معنی فریاد سننے اور تنگی دور کرنے کے ہیں اور ان معنوں میں وہ لفظ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پورا ہوا۔دوسرے مادہ سے اس لفظ کے معنی بارش ہونے کے ہیں۔ان معنوں سے یہ لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پورا ہوا اور یہ لطیف پیرایۂ کلام قرآن کریم کی عظمت ثابت کرتا ہے نہ کہ اسے قابل اعتراض بناتا ہے۔نیل کے ذریعہ سے شاداب ہونا بھی بارش سے ہی وابستہ ہے علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر بارش ہی کے معنے کریں تب بھی کوئی اعتراض نہیں پڑتا کیونکہ اس آیت میں یہ ذکر نہیں کہ مصر میں بارش ہوگی بلکہ یہ لفظ ہے کہ لوگوں کے لئے بارش نازل کی جائے گی اور اس میں کیا شک ہے کہ گو مصر کی شادابی نیل کی طغیانی پر منحصر ہے نہ کہ بارش پر لیکن نیل کی طغیانی آگے بارش پر منحصر ہے۔جو گو مصر میں نہیں ہوتی لیکن ان علاقوں میں تو ہوتی ہے جہاں نیل کا منبع ہے۔پس اگر بارش کے معنے لئے جائیں تب بھی کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔