تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 449

محفوظ رہتا ہے۔تم بھی اسی طرح کرنا۔کوئی تعجب نہیں کہ یہ امر حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کے ہی الفاظ سے اخذ کیا ہو اور یہ خیال کیا ہو کہ گائیں دکھا کر دوبارہ جو بالیں دکھائی ہیں تو اس سے مراد یہی ہے کہ غلہ کو بالوں میں ہی رہنے دینا چاہیے۔ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ پھر اس کے بعد سات سخت( تنگی کے سال) آئیں گے سوائے اس قلیل مقدار کے جسے تم پس انداز کرلو جو اس( تمام لَهُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ۰۰۴۹ غلہ) کو جوتم نے ان کے لئے پہلے سے جمع کر چھوڑا ہو گا کھا جائیں گے۔حلّ لُغَات۔اَلشَّدِیْدُ۔اَلْبَخِیْلُ۔کنجوس اَلْقَوِیُّ۔سخت۔جَـمْعُہٗ شِدَادٌ۔اس کی جمع شِدَادٌ آتی ہے۔الشَّدِیْدَۃُ مُؤَنَّثُ الشَّدِیْدِ وَجَمْعُہٗ شَدَائِدُ۔شَدِیْدَۃٌ شَدِیْدٌ کی مؤنث ہے اور اس کی جمع شدَائِدُ آتی ہے۔پس سَبْعٌ اور شِدَادٌ (یہ دونوں سِنُوْنَ کی جو محذوف ہے نعتیں ہیں) میں سے پہلی صفت اس کے موصوف کے صیغہ واحد کی تانیث کی بناء پر بصیغۂ تانیث لائی گئی ہے اور دوسری صفت اپنے موصوف کے صیغہ کی رعایت سے جو جمع مذکر کا صیغہ ہے بصیغہ مذکر آئی ہے۔حَصُنَ حَصُنَ حَصَانۃً مَنُعَ۔رک گیا۔محفوظ ہو گیا۔اَلْمَرْءَ ۃُ حُصْنًا وَحَصَانَۃً کَانَتْ عَفِیْفَۃً۔عورت پاکباز رہی۔(اقرب) اَحْصَنَ۔مَنَعَ۔روکا۔تفسیر۔یعنی اس کے بعد قحط کے دن آئیں گے جن میں پہلا جمع شدہ غلہ سب خرچ ہوجائے گا اور صرف تھوڑا سا جو تم بچا رکھو گے بچے گا۔بچا رکھو گے کے الفاظ سے مجبوری پائی جاتی ہے اور غلہ کے بچانے کی مجبوری بیج کی ہی ہوتی ہے۔پس مراد یہ ہے کہ بیج کے طور پر جو تم کو جبراً رکھنا پڑے گا وہی رہے گا۔باقی سب کھایا جائے گا۔یا یہ کہ اس ڈر سے کہ قحط لمبا نہ ہو جائے جو کچھ تم اپنے پیٹ کاٹ کر بچا رکھو گے وہ بچے گا ورنہ سب خرچ ہو جائے گا۔