تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 444
اللہ تعالیٰ نے اسے رؤیا ایسی وضاحت اور ہیبت کے ساتھ دکھائی تھی کہ اس کا نقشہ اس کے دل پر اثر کر گیا تھا۔پس وہ مجبور تھا کہ اسے سچا سمجھے اور اس کے نتائج سے بچنے کی کوشش کرے۔اگر اس شان سے رؤیا نہ ہوتی اور اس کے دل پر گہرا اثر نہ ہوتا تو وہ دربار میں اس کا ذکر نہ کرتا اور حضرت یوسف علیہ السلام کی رہائی کی صورت نہ پیدا ہوتی۔قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِيْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِيْنَ۰۰۴۵ انہوں نے کہا (کہ یہ تو) پراگندہ خوابیں ہیں اور ہم( لوگ) ایسی پراگندہ خوابوں کی حقیقت نہیں جانتے۔حلّ لُغَات۔ضِغْثٌ اِلضِّغْثُ مِنَ الْخَبَرِ مَاکَانَ مُخْتَلِطًالَا حَقِیْقَۃَ لَہٗ۔ضِغْثٌ اس خبر یا بات کو کہتے ہیں جو پراگندہ ہو اور اس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ اَحْلَامٌ مُلْتَبِسَۃٌ لَا یَصِحُّ تَأْوِیْلُہَا لِاِخْتِلَاطِہَا اضغاث احلام ایسی پراگندہ خوابوں کو کہتے ہیں جن کی سچ اور جھوٹ کی ملاوٹ کی وجہ سے تعبیر نہیں کی جاسکتی۔(اقرب) حُلْمٌ اَحْلَامٌ حُلُمٌ کی یا حُلْمٌ کی جمع ہے۔مَایَرَاہُ النَّائِمُ فِی نَوْمِہٖ۔لٰکِنَّہٗ قَدْ غَلَبَ عَلٰی مَا یَرَاہُ مِنَ الشَّرِّ وَالْقَبِیْحِ کَمَا غَلَبَتِ الرُّؤْیَا عَلٰی مَایَرَاہُ مِنَ الْخَیْرِ وَالْحَسَنِ وَرُبَّمَا یُسْتَعْمَلُ کُلٌّ مَکَانَ الْآخِرِ حُلْمٌ اس نظارہ کو کہتے ہیں جو انسان نیند کی حالت میں دیکھے لیکن یہ لفظ عام طور پر برے اور قبیح نظارہ کے لئے بولا جاتا ہے جس طرح رؤیا کا لفظ عام طور پر اچھے اور نیک نظارہ کو کہتے ہیں۔لیکن کبھی کبھی یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ پر بھی بول لئے جاتے ہیں۔(اقرب) مجمع البحار میں لکھا ہے اَلرُّؤْیَا مِنَ اللہِ وَالحُلُمُ مِنَ الشَّیْطَانِ ھُمَا مَایَرَاہُ النَّائِمُ لٰکِنْ غَلَبَ الرُّؤْیَا عَلَی الْخَیْرِ وَالْحُلُمُ عَلَی الشَّرِّ وَالْقَبِیْحِ۔یعنی رؤیا اورحلم دونوں لفظوں کے اصل معنے حالت خواب میں دیکھنے کے ہیں لیکن عام محاورہ اور استعمال میں حلم بری خواب کو کہتے ہیں اور رؤیا اچھی کو۔جیسا کہ حدیث میں آیا ہے اَلرُّؤْیَا مِنَ اللہِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّیْطٰنِ۔یعنی رؤیا اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور حلم شیطان کی طرف سے۔(اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈرانے والی خواب آتی ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو اکثر ڈرانے والی خوابیں آتی رہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوں گی۔بلکہ شیطان کی طرف سے ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رحم اس کے غضب پر غالب ہے۔اور جس کو اکثر اچھی خوابیں آئیں وہ سمجھے کہ وہ خوابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکہ ان میں رحمت کا پہلو غالب ہے۔