تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 443

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّيْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ اور( کچھ عرصہ کے بعد) بادشاہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا (کہ) میں( خواب میں) سات موٹی گائیں دیکھتا سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ يٰبِسٰتٍ١ؕ ہوں جنہیں سات دبلی (گائیں) کھا رہی ہیں اور سات( ترو تازہ اور) سبز بالیں (دیکھتا ہوں) اور چند اور (بالیں يٰۤاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُوْنَ۰۰۴۴ بھی جو) خشک (ہیں) اے سر کردہ لوگو!اگر تم رؤیا کی تعبیر (کیا) کرتے ہو تو مجھے میری(اس) رؤیا کے متعلق ( صحیح) حکم بتاؤ۔حلّ لُغَات۔عَـجِفَ عَـجِفَتِ الشَّاۃُ عَـجَفًا ذَھَبَ سِمَنُہَا وَضَعُفَتْ دبلی ہو گئی۔وَالْبِلَادُ لَمْ تُمْطَرْ فلاں علاقہ میں بارش نہ ہوئی اور اس میں خشک سالی رہی۔وَمِنْہُ نَزَلُوْا فِیْ بِلَادٍ عِـجَافٍ اَیْ غَیْرِ مَمْطُوْرَۃٍ جب شہروں کے لئے لفظ عجاف آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں جن پر بارش نہیں برسی۔اسی طرح جب دانوں کے لئے یہ لفظ آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کہ دانے چھوٹے رہ گئے۔اَلْعَـجَفُ الْھُزَالُ۔دُبلا پن۔اَلْاَعْـجَفُ اَلْمَہْزُوْلُ وَھِیَ عَـجْفَاءُ جَمْعُہٗ عِـجَافٌ شَاذٌ۔اس سے صفت کا صیغہ مذکر اَعْـجَفُ اور مؤنث عَـجْفَاءُ آتا ہے۔اور ان کی جمع دوسرے اس قسم کے الفاظ کے خلاف بجائے عُـجْفٌ کے عـجَافٌ آتی ہے۔(اقرب) عَبَرَ عَبَرَالسَّبِیْلَ عُبُوْرًا شَقَّہَا۔اَیْ مَرَّکأَنَّہٗ شَقَّہَا وَقَطَعَہَا۔وہ راستہ پر ایسی سرعت سے گزرا اور سیدھا چلا کہ گویا اس نے اسے چیر دیا اور اسے کاٹتا ہوا اس میں گزرا۔بِفُلَانٍ الْمَاءَ جَازَ دریا کے پار پہنچا دیا۔الْکِتَابَ تَدَبَّـرَہٗ فِی نَفْسِہٖ وَلَمْ یَرْفعْ صَوْتَہٗ بِقِرَاءَ تِہٖ دل میں الفاظ پر غور کرتا گیا۔اَلرُّؤْیَا عَبْرًا وَعِبَارۃً فَسَّرَھَا وَاَخْبَرَبِاٰخِر مَایَؤُوْلُ اِلَیْہِ اَمْرُھَا۔خواب کا نتیجہ بتایا اس کی تعبیر بتائی۔(اقرب) اَفْتٰی اَفْتَاہُ الْعَالِمُ فِی مَسْئَلَۃٍ۔اَبَانَ لَہُ الحُکْمَ فِیْہَا وَاَخْرَجَ لَہٗ فِیْہَا فَتْوٰی۔عالم نے پیش آمدہ مسئلہ کے متعلق فتویٰ دیا اور اس کا حکم بتایا۔(اقرب) تفسیر۔فرعون پر اس کی رؤیا کا گہرا اثر معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو اپنی رؤیا پر اس قدر یقین تھا کہ وہ صرف تعبیر ہی نہیں پوچھتا بلکہ یہ پوچھتا ہے کہ بتاؤ تعبیر معلوم ہوچکنے کے بعد کرنا کیا چاہیے۔معلوم ہوتا ہے کہ