تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 431
کے ذریعہ سے اپنا بچاؤ کیا۔مِنَ الشَرِّ وَالْمَکْرُوْہِ اِلْتَجَأَ بدی سے بچنے کے لئے کسی چیز کی پناہ لی۔(اقرب) لِیَکُوْنًا وَلِیَکُوْنًامیں نون تاکید خفیفہ ہے جسے اس جگہ تنوین کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔صَغُر صَغُرَ ضِدُّ عَظُمَ ذلیل ہوا۔ھَانَ بالذُلِّ بے قدر اور ذلیل ہوا۔اَلشَّمْسُ مَالَتْ لِلْغُرُوْبِ۔سورج نیچے چلا گیا اور ڈوبنے لگا۔صَغِرَالْقَوْمَ کَانَ اَصْغَرُھُمْ سب سے چھوٹا ہو گیا۔(اقرب) صَغُرَ میں سے صفت مشبہ کا صیغہ صَغِیْرٌ آتا ہے اور صَغِرَ میں سے صَاغِرٌ آتا ہے۔پس صَاغِرِیْنَ کے معنے ہوں گے چھوٹے لوگ۔یعنی پست اور چھوٹی حیثیت کے لوگ یا ذلیل و رسوا لوگ۔الصَّاغِرُ الْمُہَانُ الرَّاضِیْ بِالذُّلِ والضَّیْمِ صَاغِرٌ کے معنے ہیں ذلیل کرکے رکھا جانے والا شخص جو ذلت پرا ور مظلومیت پر راضی ہو اور ذلت میں رہتے رہتے اس کا خود داری کا احساس ہی مارا جائے۔(اقرب) تفسیر۔عزیز کی بیوی کی زبان سے حضرت یوسف کی بریت پہلے یہ بیان ہوچکا ہے کہ وہ عورتیں اس طرز پر بات کرتی تھیں۔جس سے دوسرے لوگ یہ سمجھ لیں کہ فعل بد سرزد ہوا ہے۔اور اسی کی تردید کے لئے ان عورتوں کو عزیز کی عورت نے بلایا تھا اور ظاہر ہے کہ جب تک مرد کی طرف سے آمادگی نہ ہو اس فعل کا وقوع نہیں ہوسکتا۔پس امرء ۃ العزیز نے پہلے یوسف علیہ السلام کو ان عورتوں کے سامنے لاکر انہی کی زبانوں سے اس کا اقرار کرالیا کہ یوسف سے یہ فعل ہرگز نہیں ہوسکتا۔پھر اصل حقیقت بتائی کہ میں نے تو کوشش کی تھی لیکن یہ محفوظ رہا اور جیسا کہ الفاظ آیت سے ظاہر ہے کہ وہ اس کی بدی میں شریک سہیلیاں تھیں۔ماضی کی برأۃ کرکے وہ آئندہ کے لئے خود کہتی ہے کہ اگر اس نے میری بات نہ مانی تو میں اسے قید کرا دوں گی اور ذلیل کردوں گی۔یہ عجیب لطیفہ ہے کہ مفسرین تو کہتے ہیں کہ وہ بدی کی طرف جھک گئے تھے لیکن وہ عورت جس کا واقعہ ہے اور جس کے لئے یوسف کا انکار نہایت ذلت کا موجب ہے وہ خود کہتی ہے کہ باوجود میری کوشش کے یوسفؑ میرے دام میں نہیں آیا بلکہ محفوظ رہا۔قید یوسف ؑ کے لئے ذلت کا موجب نہیں بلکہ عزت کا موجب ہوئی اللہ تعالیٰ کی قدرت عجیب ہے کہ عزیز کی بیوی نے جس چیز کی دھمکی یوسف کو دی تھی کہ میں ان کو قید کرا دوںگی اور اس طرح یہ ذلیل ہو جائے گا وہی قید یوسف علیہ السلام کی عزت کا موجب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو اس قید کے ذریعہ سے بادشاہ کا مقرب اور وزیر خزانہ بنوا دیا۔اس کی بات بھی پوری ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے اپنا وعدہ بھی پورا کر دیا اور بتا دیا کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔وہ چاہے تو ذلت کے اسباب سے عزت کے سامان پیدا کردے۔