تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 430
سادگی اور شرافت کے نظارہ میں ایسی محو ہوئیں کہ بعض کے ہاتھوں کو چھریوں سے زخم لگ گئے اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ انہوں نے اپنے دانتوں میں انگلیاں حیرت سے دبائیں کہ کیا ہم ایسے شخص کا نام اس طرح لیتی ہیں۔چنانچہ عربی میں عَضَّ الْاَنَامِلَ انگلیوں کو دانتوں سے کاٹنے کا محاورہ حیرت کے معنوں میں آتا بھی ہے اور یہ عربی کا محاورہ ہے کہ جزو کے لئے کل کا لفظ بعض دفعہ استعمال کرلیتے ہیں۔پس ہوسکتا ہے کہ ایدی انامل کی جگہ استعمال کرلیا گیا ہو۔دعوت میں سنگترے طالمود میں جو یہود کی حدیث کی کتاب ہے لکھا ہے کہ عزیز کی بیوی نے ان عورتوں کے سامنے سنگترے رکھے تھے۔اور انہیں ان کی خدمت کا حکم دیا وہ ان کی طرف دیکھتی رہیں اور بے توجّہی میں ان کے ہاتھ زخمی ہو گئے۔مَلَکٌ سے مراد بزرگ آدمی حضرت یوسف علیہ السلام کی صورت دیکھ کر وہ عورتیں بے اختیار ان کی نیکی کی قائل ہو گئیں اور کہہ اٹھیں کہ یہ تو ایک بزرگ فرشتہ ہے۔اس محاورہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی فرشتہ کا لفظ انسانوں کے لئے بھی استعمال کرلیا جاتا ہے۔قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ (اس پر) اس( عورت) نے انہیں کہا یہ وہی (شخص )ہے جس کے متعلق تم نے مجھے ملامت کی ہے اور میں نے اس نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَ سےاس کی مرضی کے خلاف (ایک برا) فعل کروانے کی کوشش ضرورکی تھی( مگر) اس پر (بھی) یہ بچا رہا اور اگر اس لَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ۰۰۳۳ نے وہ بات جس کے لئےمیں اسے حکم دیتی ہوں نہ کی تو یقیناًاسے قید کر دیا جائے گا اور یقیناً ذلیل ہو گا۔حلّ لُغَات۔اِسْتَعْصَمَ اِسْتَعْصَمَ اِمْتَنَعَ وَاَبٰی بدی کے ارتکاب سے رک رہا اور اس سے انکار کردیا۔تَقُوْلُ دُعِیَ اِلٰی مَکرُوْہٍ فَاسْتَعْصَمَ فلاں شخص کو بدی کی طرف بلایا گیا تو اس نے اس کے ارتکاب سے انکار کر دیا۔تَحَرّٰی مَایَعْصِمُہٗ ایسی چیز تلاش کی جو اسے بچائے۔بِہٖ :اِسْتَمْسَکَ بِہِ ولَزِمَہٗ اسے پکڑ لیا اور اس