تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 427

ان عورتوں کی ایک چالاکی گویا وہ ظاہر الفاظ میں اس کی معذوری بیان کرتی ہیں اور اصل میں اس کے عیب کی اشاعت مقصود ہے۔فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ اور جب اس نے ان کے (اس) منصوبہ کی خبر سنی تو انہیں( دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لئے ایک (خاص) لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّيْنًا وَّ قَالَتِ مسند تیار کی اور (جب وہ آئیںتو) ان میں سے ہر ایک کو (کھانا کھانے کے لئے ایک) ایک چھری دی اور( یوسف اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَيْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ علیہ السلام سے )کہا( کہ) ان کے سامنے آ۔پس جب انہوں نے اسے دیکھا تو اسے (بہت) بڑی شان کا( انسان) وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ۰۰۳۲ پایا اور( اسے دیکھ کر)اپنے ہاتھ کاٹے اور کہا (کہ یہ شخص محض) اللہ (تعالیٰ) کے لئے (بدی کے ارتکاب سے) ڈرا ہے۔یہ بشر (ہے ہی) نہیں یہ( تو) صرف ایک معزز فرشتہ ہے۔حلّ لُغَات۔سَمِع بِہٖ سَمِعَ بِہٖکے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ بات شہرت پاگئی۔اور اس ذریعہ سے اسے بھی پہنچ گئی۔چنانچہ اقرب الموارد میں سَمَّعَ کے معنی لکھے ہیں سَمَّعَ بِکَذَا شَیَّعَہٗ اسے شہرت دی۔بِالرَّجُلِ اَذَاعَ عَنْہُ عَیْبًا وَنَدَّدَ بِہٖ وَشَھَّرَہٗ وَفَضَحَہٗ۔اس کے متعلق کوئی عیب کی بات پھیلائی اور اسے شہرت دے کر اس کو رسوا کیا۔پس سَمِعَ بِہِ کے معنے یہ ہوئے کہ اس کے متعلق بات مشہور ہوئی جسے اس نے بھی سنا۔اِتَّکَأَ۔اِتَّکَأَ جَلَسَ مُتمَکِّنًا۔خوب جم کر بیٹھا۔یُقَالُ اِتَّکَأَ عَلَی السَّرِیْرِ۔چنانچہ تخت پر بیٹھنے کو اِتِّکَاء ہی کہتے ہیں۔اَلْقَوْمُ عِنْدَ فُلَانٍ طَعِمُوْا عِنْدَہٗ۔انہوں نے اس کے ہاں کھانا کھایا۔قَالَ جَمِیْلٌ فَظَلِلْنَا بِنِعْمَۃٍ وَاتَّکَأْنا۔اَیْ طَعِمْنَا۔چنانچہ جمیل اپنے ایک واقعہ کا ان اوپر کے الفاظ میں ذکر کرتا ہے۔یعنی ہم دن بھر عیش و عشرت کرتے رہے اور خوب کھایا پیا۔عَلٰی عَصَاہُ تَحمَّلَ وَاعْتَمَدَ عَلَیْہَا۔اپنی چھڑی پر ٹیک لگائی اور اپنا بوجھ اس پر ڈالا۔قَالَ ابْنُ الْاَثِیْرِ وَالْعَامَّۃُ لَاتَعْرِفُ الْاِتِّکَاءِ اِلَّا الْمَیْلَ فِی الْقُعُوْدِ مُعْتَمِدً اعَلَی اَحَدِ الشِّقَّیْنِ۔