تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 425
’’اور قیدخانہ کے داروغہ نے سب قیدیوں کو جو قید میں تھے یوسف کے ہاتھ میں سونپا اور جو کام وہاں کیا جاتا تھا اس کا مختار وہی تھا۔‘‘ (آیت ۲۲) اور بائبل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیدخانہ عزیز فوطیفار کے ہی ماتحت تھا۔چنانچہ لکھا ہے کہ’’ فرعون اپنے دو سرداروں پر جن میں ایک ساقیوں اور دوسرا نان پزوں کا داروغہ تھا غصے ہوا اور اس نے انہیں نگہبانی کے لئے جلوداروں کے سردار کے گھر میں اس جگہ جہاں یوسف بند تھا قیدخانہ میں ڈالا۔جلوداروں کے سردار یعنی عزیز نے انہیں یوسف کے حوالہ کیا۔‘‘ باب۴۰ آیت ۲ تا۴۔اب یہ عقل کے خلاف امر ہے کہ فوطیفار تو یوسف علیہ السلام کو اپنی عزت پر حملہ کرنے والا سمجھے اور اس کا نوکر داروغہ اس کو جیل کا افسر مقرر کردے اور یہ امر اور بھی عقل کے خلاف ہے کہ بادشاہ کے خاص قیدی جب عزیز کے سپرد کئے جائیں تو وہ خود انہیں یوسف علیہ السلام کی نگرانی میں دے دے۔پس ان حوالہ جات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عزیز کو حضرت یوسفؑ کی براء ت پر پورا یقین تھا اور قرآن کریم کا بیان صحیح ہے اور بائبل کا غلط۔وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِيْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا اور اس شہر کی بعض عورتوں نے (ایک دوسری سے) کہا (کہ) عزیز کی عورت اپنے غلام سے اس کی مرضی کے خلاف عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِيْ ضَلٰلٍ (بُرا) فعل کر وانا چاہتی ہے (اور) اس کی محبت نے اس کے دل کی گہرائیوںمیں گھر کر لیاہے۔ہم( اس معاملہ میں) مُّبِيْنٍ۰۰۳۱ اسے یقیناً( کھلی) کھلی غلطی پر دیکھتی ہیں۔حلّ لُغَات۔عَزیْزٌ۔اَلْعَزِیْزُ۔اَلشَّرِیْفُ۔بڑا آدمی۔اَلْقَوِیُّ۔طاقت والا۔اَلْمُکَرَّمُ۔معزّز۔مِنْ اَسْمَآئِہٖ تَعالٰی وَھُوَ الْمَنِیْعُ الَّذِیْ لَایُنَالُ وَلَا یُغَالَبُ۔یہ خدا تعالیٰ کا نام بھی ہے اور اس کے معنی ہیں وہ ذات جسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ اس کا کوئی مقابلہ کرسکتا ہے۔اَلْمَلِکُ لِغَلَبَتِہٖ عَلٰی اَھْلِ مَمْلِکَتِہٖ۔بادشاہ کو بھی عزیز کہتے ہیں کیونکہ اپنی حکومت کے تمام لوگوں پر غلبہ رکھنے والا ہوتا ہے۔وَلَقَبُ مَنْ مَلَکَ مِصْرمَعَ