تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 421
قَالَ هِيَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اس نے (یعنی یوسف نے) کہا (نہیں بلکہ) اس نے مجھ سے میری مرضی کے خلاف (ایک) فعل کروانا چاہا تھا۔اور اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ اس (عورت ہی)کے کنبہ میں سے ایک گواہ نے گواہی دی (کہ اس عورت کے کپڑے صحیح سلامت ہیں اور اس آدمی مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۰۰۲۷ کا کرتہ تازہ پھٹا ہوا ہے پس) اگر اس کا کُرتہ آگے سے پھاڑاگیاہےتو اس( عورت) نے سچ کہا ہے اور وہ( آدمی) یقیناً جھوٹا ہے۔حلّ لُغَات۔شَھِدَ شَھِدَ الْمَجْلِسَ شُہُوْدًا حَضَرَہٗ۔اس میں حاضر اور موجود ہوا۔اِطَّلَعَ عَلَیْہِ اس سے آگاہ ہوا۔عَایَنَہٗ۔اسے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔الْـجُمْعَۃَ اَدْرَکَہَا۔نمازجمعہ میں وقت پر پہنچ کر شامل ہو گیا۔عَلٰی کَذَا۔اَخْبَرَبِہِ خُبُرًا قَاطِعًا۔اس کے متعلق صحیح صحیح خبر یا اطلاع دی۔عِنْدَ الْحَاکِمِ لِفُلَانٍ عَلٰی فُلَانٍ بِکَذَا شَھَادَۃً اَدَّیٰ مَاعِنْدَہٗ مِنَ الشَّہَادَۃِ۔شہادت دی(اقرب) وَ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰۲۸ اور اگر اس( شخص) کا کرتہ پیچھے سے پھاڑا گیا ہے تو اس( عورت) نے جھوٹ بولا ہے اور وہ یقیناً سچا ہے۔حلّ لُغَات۔صِدْقٌ الصِّدْقُ بِالْکَسْرِ نَقِیْضُ الْکَذِبِ۔خبر کا غلط نہ ہونا بلکہ واقع کے مطابق ہونا۔یا کہنے والے کا واقع کے مطابق بات کہنا اور خلاف واقع نہ کہنا۔ھُوَالذِیْ یَکُوْنُ مَافِی الذِّھْنِ مِنْہُ مُطَابِقًا لِمَا فِی الْخَارِجِ۔وہ بات جس میں انسان کا علم واقعات کے مطابق ہو۔(اقرب) اَلصِّدْقُ مُطَا بَقَۃُ الْقَوْلِ الضَّمِیْرَ وَالْمُخْبَرَعَنْہُ مَعًا صدق اسے کہتے ہیں کہ جو بات کہی جائے وہ متکلم کے ضمیر کے مطابق ہو اور نفس الامر کے بھی۔وَمَتَی انْخَرَمَ شَرْطٌ مِنْ ذٰلِکَ لَمْ یَکُنْ صِدقًا تَامًّا اور جب دونوں شرطوں میں سے کوئی ایک شرط یا دونوں شرطیں مفقود ہوں تو صدق نہیں رہے گا۔بَلْ اِمَّا اَنْ لَّا یُوْصَفَ بِالصِّدْقِ۔