تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 420

محذوف ہے اور یا اِسْتَبَقَا کے لفظ میں اِبْتَدَرَا کے معنے ملحوظ ہیں اس لئے اس جگہ معنے یہ ہیں کہ وہ دونوں دروازہ کی طرف دوڑے نہ یہ کہ دروازہ سے آگے نکل گئے۔(اقرب) قَدَّ قَدَّ الشَّیْءَ۔قَطَعَہٗ مُسْتَأْصِلًا۔اسے بالکل پھاڑ دیا۔اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔وَقِیْلَ مُسْتَطِیْلًا اور بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنے لمبی طرف سے پھاڑ کر پارہ پارہ کرنے کے ہیں۔وَقِیْلَ شَقَّہٗ مُسْتَطِیْلًا اور بعض نے اس کے یہ معنے بیان کئے ہیں کہ اسے لمبائی کی طرف سے چیر دیا۔(اقرب) تفسیر۔حضرت یوسف ؑ نے بھاگنے کی کوشش کیوں کی جب حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا کہ اس پر نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو انہوں نے اس خیال سے کہ اب زیادہ ٹھہرنا بدنامی کا موجب ہوگا دوڑنا چاہا لیکن عزیز کی بیوی نے اس سے ان کو روکا اور ان کا کُرتا پکڑ کر کھینچا جو طول میں پھٹ گیا۔اتفاقاً اسی وقت عزیز مصر بھی آ گیا اور اس کی بیوی نے اپنے گناہ کو اس طرح چھپایا کہ الزام حضرت یوسف علیہ السلام پر لگادیا اور فوراً سزا بھی خود ہی تجویز کردی کہ اسے قید کردینا چاہیے۔عزیز کی بیوی کا بھاگنے سے کیا مقصد تھا الفاظ آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا منشاء تو یہ تھا کہ وہ دروازہ کھول کر بھاگ جائیں اور عزیز کی بیوی کا منشاء یہ تھا کہ وہ آگے بڑھ کر دروازہ کھولنے سے روکے اسی وجہ سے اِسْتَبَقَا کا لفظ استعمال کیا ہے ورنہ اگر اس کا منشاء باہر نکلنے کا ہوتا تو وہ کرتہ نہ کھینچتی۔کرتہ اس نے اس لئے کھینچا کہ ان کو دھکا دے کرپیچھے کردے اور خود دروازہ پر جاکھڑی ہو مگر باوجود اس کے وہ کامیاب نہ ہوسکی۔حضرت یوسف اپنا کرتہ وہیں چھوڑ کر نہیں بھاگے تھے بائبل کو اس جگہ بھی قرآن کریم سے اختلاف ہے۔اس میں لکھا ہے کہ حضرت یوسفؑ اپنا پیراہن عزیز کی بیوی کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے(پیدائش باب ۳۹ آیت ۱۲) مگر جب ہم اس امر کو مدنظر رکھیں کہ عبرانیوں میں عام طور پر ایک کرتہ ہی پہننے کا رواج تھا تو اس کے یہ معنی بنتے ہیں کہ وہ ننگے بھاگے جو ایک نہایت معیوب امر ہے اور اس کی امید حضرت یوسف علیہ السلام سے نہیں کی جاسکتی۔پس قرآن کریم کا بیان عقلاً بھی زیادہ قابل تسلیم ہے کہ ان کا کرتہ پھٹ گیا تھا وہ اسے پھینک کر نہیں بھاگے۔