تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 409
بھیڑیا پکڑ لائے۔بھیڑیئے نے کہا کہ میں آپ کے بیٹے کو کیسے کھاسکتا تھا۔حالانکہ آج تو خود میرا بیٹا گم ہو گیا تھا۔پھر آگے لکھا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام مختلف تفاول نکالتے رہتے تھے۔آخر خدا نے انہیں خواب میں بتایا کہ وہ زندہ ہے۔(جیواش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Joseph) طالمود کا یہ بیان خواہ کس قدر ہی خلافِ عقل ہو مگر یہودا کے قول سے مل کر اس سے یہ امر یقیناً ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت یعقوبؑ اپنے بیٹوں کے بیان کو سچا نہیں سمجھتے تھے۔دسویں مماثلت آنحضرتؐ کے قتل کے متعلق بھی خبر مشہور کر دی گئی تھی جس طرح یوسفؑ کے بھائیوں نے جھوٹے طور پر یہ کہہ دیا کہ یوسفؑ مارا گیا ایسا ہی کفارِ مکہ نے بھی کہا۔چنانچہ جنگِ احد کے موقع پر ابوسفیان نے اعلان کر دیا اِنَّا قَتَلْنَا مُـحَمَّدًا ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مار دیا ہے۔اور مکہ میں آکر بھی یہی خبر مشہور کردی۔ہاں اتنا فرق ہے کہ انہوں نے قتل کو بھیڑیئے کی طرف منسوب کیا اور کفار مکہ نے اپنی طرف۔وَ جَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ اور (اتنے میں )ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی لانے والے (آدمی )کوبھیجا اور اس نے (اسی کنوئیں پر جا کر) يٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ اپنا ڈول ڈالا۔(اور جب اسے کنوئیں میں ایک لڑکا نظر آیا تو) اس نے (قافلہ والوں سے) کہا اے( قافلہ والو!لو) بِمَا يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۰ خوش خبری (سنو اور دیکھو )یہ ایک لڑکا ہے اور انہوں نے اسے ایک تجارتی مال سمجھتے ہوئے چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اسے اللہ( تعالیٰ) خوب جانتا تھا۔حلّ لُغَات۔وَارِدٌ اَلْوَارِدُ اَلَّذِیْ یَتَقَدَّمُ اِلَی الْمَاءِ۔قافلہ کا وہ آدمی جو پہلے پہنچ کر پانی کا انتظام کرے۔اَلَّذِیْ یَتَقَدَّمُ الْقَوْمَ فَیَسْقِیْ لَہُمْ جو قافلہ سے پہلے پہنچ کر پانی وغیرہ کا انتظام کرے۔اَرْسَلُوْا وَارِدَھُمْ اَیْ سَاقِیَہُمْ۔ساقی۔پانی پلانے والا۔جس کے ذمہ پانی کا فراہم کرنا ہو۔(مفردات) اَلْوَارِدُ۔اَلسَّابِقُ پہلے پہنچنے والا۔اَلْوَارِدَۃُ: اَلْقَوْمُ یَرِدُوْنَ المَاءَ۔گھاٹ پر اتر کر پانی لانے والے لوگ۔(اقرب)