تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 408

دکھایا۔(اقرب) فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ۔اس جملہ میں حذف واقع ہوا ہے۔اور پورا جملہ تین طرح ہوسکتا ہے۔(۱) یہ کہ فَصَبْرِیْ صَبْرٌجَمِیْلٌ۔میرا صبر صبرِجمیل ثابت ہوگا۔میں ہرگز نہ گھبراؤں گا۔(۲) اَمْرِیْ صَبْرٌ جَمِیْلٌ۔میرا کام صبرجمیل ہوگا۔(۳) یہ کہ صَبْرٌجَمِیْلٌ خَیْرٌ۔صبرجمیل کرنا ہی بہتر ہے۔گویا یا مبتداء محذوف مانا جائے گا۔یا خبر محذوف مانی جائے گی۔مُسْتَعَانٌ۔مُسْتَعَانٌ اسم مفعول کا صیغہ ہے اِسْتَعَانَ سے اور اس کے معنے ہیں ’’وہ وجود جس سے مدد طلب کی جائے۔‘‘ تفسیر۔آٹھواں اختلاف یعقوب ؑ کو یوسفؑ کے زندہ موجود ہونے کا علم تھا بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو یوسف علیہ السلام کے پھاڑے جانے کا یقین ہو گیا تھا۔جیسا کہ لکھا ہے ’’اس (یعقوب) نے اسے (کرتہ کو) پہچانا اور کہا کہ یہ تو میرے بیٹے کی قبا ہے۔کوئی برا درندہ اسے کھا گیا اور یوسف بے شک پھاڑا گیا۔‘‘ (پیدائش باب ۳۷ آیت ۳۳)مگر قرآن مجید کی اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ان کی بات کو محض فریب سمجھا بلکہ ان کے بیان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی مدد چاہی اور مدد چاہنا بتاتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ابھی امید تھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام زندہ ہیں۔ورنہ مُسْتَعَانٌ کا لفظ کہنا بے فائدہ تھا۔اس اختلاف میں بھی بائبل اپنی غلطی کا آپ اقرار کرتی ہے اس اختلاف میں بھی قرآن کریم کے بیان کی صداقت خود بائبل ہی کے دوسرے حوالہ جات سے ہوجاتی ہے۔چنانچہ پیدائش باب۴۴ میں لکھا ہے کہ جب مصر میں حضرت یوسف نے اپنے بھائی کو روک لیا تو یہودا یوسف کے سامنے آیا اور اس نے کہا ’’میرے باپ نے ہم کو کہا تم جانتے ہو کہ میری جورو مجھ سے دو بیٹے جنی ایک مجھ سے جدا ہوا ا ور میں نے کہا یقیناً وہ پھاڑا گیا اور میں نے اسے اب تک نہیں دیکھا۔‘‘ (آیت ۲۷ ،۲۸) حضرت یعقوب علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ میں نے اسے اب تک نہیں دیکھا صاف بتا رہا ہے کہ وہ اسے زندہ سمجھتے تھے ورنہ اگر انہیں یقین ہو جاتا کہ وہ پھاڑا گیا ہے جیسا کہ بائبل نویس نے یہاں بھی لکھ دیا ہے تو ان کا یہ قول کچھ معنے نہیں رکھتا۔پس اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم کا بیان ہی درست ہے اور حضرت یعقوبؑ حضرت یوسفؑ کو زندہ ہی سمجھتے تھے۔طالمود سے بھی قرآن کریم کے بیان کی ہی تائید ہوتی ہے طالمود بھی قرآن مجید کے بیان کی تائید کرتی ہے۔اس میں بھی لکھا ہے کہ یعقوب کو ان کی بات کا یقین نہ آیا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔حتیٰ کہ وہ بھائی ایک