تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 401
قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا يُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ (اس پر) ان میں سے ایک بولنے والے نے کہا( کہ) تم یوسف کو قتل نہ کرو اور اگر( بہرحال) تم نے (کچھ )کرنا (ہی) الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ۰۰۱۱ ہے تو اسے (کسی) گہرے کنوئیں کی تہ میں ڈال دو کسی قافلہ کا کوئی شخص اسے (دیکھ کر )اٹھائے گا (اور بغیر جان لینے کے تمہارا مقصد پورا ہو جائے گا ) حلّ لُغَات۔غَیَابَۃٌ اَلْغَیَابَۃُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَاسَتَرَکَ مِنْہُ۔غَیَابَۃٌ۔ہر چیز کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو اسے نظروں سے غائب کردے۔وَمِنَ الْجُبِّ وَالْوَادِیِ قَعْرُہٗ اور کنوئیں یا وادی کا غیابہ اس کے گہراؤ اور تہہ کو کہتے ہیں۔پس غیابۃ کا لفظ وادی یا جُبّ وغیرہ کی طرح کی جگہ کے نام کی طرف مضاف ہوکر استعمال ہوتا ہے اور اس کی تہہ کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔وَوَقَعْنَا فِی غَیَابَۃٍ أَیْ ھَبْطَۃٍ مِنَ الْاَرْضِ۔زمین کا گہرا حصہ اَلْقَبْرُ۔قبر۔(اقرب) اَلْجُبُّ اَلْجُبُّ اَلْبِئْرُاَوِالْبِئْرُ الْکَثِیْرُ الْمَاءِ الْبَعِیْدۃَ الْقَعْرِ۔مطلق کنواں یا بہت پانی والا اور بہت گہرا کنواں وَ فِی الْمِصْبَاحِ وَالْجُبُّ بِئْرٌ لَمْ تُطْوَ۔ایسا کنواں جس کے گرد منڈیریں وغیرہ نہ ہوں اور ویراں پڑا ہو۔(اقرب) سَیَّارَۃٌ۔اَلسَّیَّارَۃُ مُؤَنَّثُ السَّیَّارِ۔سیّارہ۔سیّار کی مؤنث ہے جس کے معنے ہیں کَثِیْرُالسَّیْرِ بہت سیر کرنے والا۔اَلْقَافِلَۃُ۔قافلہ۔وَاَصْلُہَا الْقَوْمُ یَسِیْرُوْنَ اور اس کے اصل معنے ایسی جماعت کے ہیں جو سفر کررہی ہو۔(اقرب) تفسیر۔یعنی اگر تم یوسف سے ضرور ہی مخالفت کرنا چاہتے ہو تو بھی اسے قتل نہ کرو بلکہ اسے گھر سے نکالنے کی تدبیر کرو۔ساتویں مماثلت حضرت یوسفؑ کی طرح آنحضرتؐ کے قتل کے منصوبہ کی بعض اہل مکہ کی طرف سے مخالفت جس طرح یوسفؑ کے قتل کے بارہ میں بعض لوگوں نے مخالفت کی تھی ایسا ہی مکہ کے بعض لوگوں نے