تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 397

کہ خواب سنانے والے نے خواب نہیں دیکھا بلکہ وہ جھوٹ بول رہا ہے مگر بائبل کہتی ہے کہ یعقوبؑ نے کہا یہ ’’کیا خواب ہے جو تو نے دیکھا ہے۔‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوبؑ نے یوسفؑ کو جھوٹا نہیں سمجھا۔پس سچا سمجھتے ہوئے ڈانٹنا خلاف عقل ہے اور ہر عقلمند قرآن کریم کا ہی بیان درست اور صحیح سمجھے گا۔علاوہ ازیں بائبل خود اپنے بیان کو رد کرتی ہے کیونکہ اس میں ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ یعقوبؑ نے اس خواب کو یاد رکھا۔یاد رکھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یعقوبؑ اس خواب کو سچا اور آسمانی سمجھتے تھے اور جب وہ اسے آسمانی خواب سمجھتے تھے تو کس طرح ممکن تھا کہ وہ اس خواب پر یوسف علیہ السلام کو ڈانٹتے جن کا خواب کے دیکھنے میں کوئی بھی دخل نہ تھا؟ آنحضرتؐ اور حضرت یوسفؑ کی چوتھی مماثلت اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس رؤیا کو آسمانی قرار دیا اور اس پر ایمان لائے اور اسے اپنی قوم کی بزرگی کا موجب قرار دیا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا کہ ورقہ بن نوفل نے آپؐ کی وحی کو سن کر اس کی تصدیق کی اور اس پر ایمان لائے اور اسے موسیٰ کے الہام کی مانند قرار دے کر اپنی قوم کی بزرگی کا موجب تسلیم کیا اور کہا ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ نَزَّلَ اللہُ عَلٰی مُوسٰی یہ وہی وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی تھی(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی علی رسول اللہ ؐ)۔لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ لِّلسَّآىِٕلِيْنَ۰۰۸ یوسف اور اس کے بھائیوں (کے واقعات) میں( حق کے) طالبوں کے لئے یقیناً کئی نشان( پائے جاتے )ہیں۔تفسیر۔یوسفؑ کےحالات بطور قصہ نہیں بلکہ بطور نشان بیان ہوئے ہیں یعنی جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت سمجھنے کے لئے کوشش کرتے ہوں ان کے لئے اس واقعہ میں نشانات ہیں۔گویا یہ حالات بعینہٖ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پیش آنے والے ہیں۔یہ آیت کس طرح وضاحت سے ثابت کرتی ہے کہ یوسفؑ کا واقعہ بطور قصہ بیان نہیں ہوا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت کے متعلق جستجو کرنے والوں کے لئے نشانات بہم پہنچانے کی غرض سے بیان ہوا ہے۔پس جو امور اس واقعہ میں بیان ہوئے ہیں وہ بطور نشان صداقت ہیں۔