تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 390
بے خبر تھا اس کے دو معنے ہوسکتے ہیں۔اول یہ کہ تو اس واقعہ سے غافل تھا۔کیونکہ نہ تو تورات میں ہی ایک جگہ تمام صداقتیں جمع کی گئی ہیں اور نہ طالمود میں ہی، کوئی سچائی کسی جگہ ہے اور کوئی کسی جگہ۔عیسائی کہتے ہیں کہ جبکہ یہ واقعہ بائبل میں موجود تھا تو آپؐ بے خبر کس طرح ہوسکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو واقعہ بائبل میں بیان کیا گیا ہے وہ اور ہے اور قرآن کریم کا بیان کردہ اور ہے۔اور جیسا کہ میں آئندہ ثابت کروں گا قرآن کریم کا بیان ہی درست ہے اور جہاں جہاں اس سے بائبل نے اختلاف کیا ہے اس میں بائبل نے ٹھوکر کھائی ہے۔دوسرے یہ معنے ہیں کہ تجھے بھی اس بات کا علم نہ تھا کہ تیرے ساتھ بھی یہ واقعات پیش آنے والے ہیں جیسا کہ یوسف علیہ السلام کو معلوم نہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا واقعات پیش آنے والے ہیں۔اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰۤاَبَتِ اِنِّيْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ (تو یاد کر اس وقت کو) جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا (تھا) کہ اے میرے باپ( یقین مانیے) میں نے گیارہ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ۰۰۵ ستاروں کواور سورج اور چاند کو( بھی رؤیا میں )دیکھا ہے (اور پھر مزید تعجب اس پر ہے کہ) میں نے ان کو اپنے سامنے سجدہ کرتے دیکھا ہے۔حلّ لُغَات۔اَبَتِ اَبَتِ اصل میں اُبِیْ ہے یعنی ’’میرے باپ‘‘! لیکن عربی زبان کے قاعدہ کے مطابق کہ اَبِیْ اور اُمِّیْ کی یاء متکلم کو نداء کے وقت تاء مکسورہ سے بدل دیتے ہیں اور یَااَبَتِ اور یَااَمَتِ کہہ دیتے ہیں اور اس سے ایک رنگ بے تکلفی اور محبت کا پیدا کردیتے ہیں اس جگہ یَااَبَتِ استعمال ہوا ہے۔تفسیر۔قرآن کریم کے اور بائبل کے بیان میں پہلا فرق طریق ابتداء کا ہے چونکہ بعض مسیحی مصنفوں نے قرآن پر حملہ کیا ہے اس لئے میں ساتھ ساتھ ہی وہ فرق بتلاتا جاؤں گا جو بائبل اور قرآن کریم کے بیان میں ہے۔پہلا فرق تو یہ ہے کہ بائبل میں اس واقعہ کے بیان کو حضرت یوسفؑ کے نسب نامہ سے شروع کیا گیا ہے لیکن قرآن کریم نے اس کو یوسفؑ کی اس خواب سے شروع کیا ہے جو کہ یوسفؑ کی ساری زندگی کے واقعات کے لئے نقطۂ مرکزیہ کے طور پر ہے اور آپ کی زندگی کے سب نشیب و فراز اسی پر مبنی ہیں۔اور نسب نامہ وغیرہ کو جو مؤرخین کا کام ہے چھوڑ دیا گیا ہے۔پس اگر اور فرقوں کو چھوڑ کر محض شروع ہی کے لحاظ سے دونوں کے بیانوں میں