تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 388
معنے پائے جاتے ہیں جیسے عبور ، رعب وغیرہ۔عربی زبان کے اُمّ الاَلْسِنہ ہونے کا کمال حضرت مسیح موعود ؑ نے ہی ثابت کیاہے عربی زبان کے ان کمالات کی طرف گو پہلے آئمہ زبان نے بھی توجہ دلائی ہے لیکن یہ حقیقت کہ یہ زبان اُمّ اَلاَلْسِنہ ہے یعنی سب زبانیں اسی میں سے نکلی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ نے ہی ظاہر کی ہے اورا س مضمون پر ایسے لطیف پیرایہ میں روشنی ڈالی ہے کہ کوئی اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتا۔افسوس کہ آپؑ کی کتاب نامکمل رہ گئی ہے مگر اصول بیان ہوچکے ہیں۔ایک صاحب نے اس کی نقل میں ایک کتاب لکھی ہے لیکن افسوس کہ حقیقت کو بوجہ لاعلمی ملیامیٹ کر دیا ہے۔عربی زبان سے تدبر کا خاص تعلق لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔یعنی اس زبان میں اس کلام کو اس لئے اتارا ہے کہ تا تم پورا فائدہ اٹھا سکو۔اگر یہ قرآن عربی نہ ہوتا یعنی ایسی زبان میں نہ آتا جو ہر مفہوم کو ادا کرسکتی ہے تو لوگ پورا فائدہ نہ اٹھاسکتے۔نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَيْنَاۤ ہم تیرے پاس (ہر امر کو) بہترین طور پر بیان کرتے ہیں کیونکہ ہم نے اس قرآن کو تیری طرف (حقائق پر مشتمل) اِلَيْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ۰۰۴ وحی (کےذریعہ سے نازل) کیا ہے۔اور اس سے پہلے یقیناً تو (ان حقائق سے) بے خبر وں میں سے تھا۔حل لغات۔قَصَّ قَصَّ یَقُصُّ قَصًّا وقَصَصًا اٰثَرَہُ تَتَبَّعَہٗ شَیْئًا بَعْدَ شیْءٍ۔اس کا نشان تلاش کرتے ہوئے اس کے پیچھے گیا۔وَمِنْہُ فَارْتَدَّا عَلٰی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا۔اَیْ رَجَعَا فِی الطَّرِیْقِ الَّتِیْ سَلَکَا ھَا یَقُصَّانِ الْأَثَرَ۔اور انہی معنوں میں قرآن کریم کی آیت فَارْتَدَّاعَلٰی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا۔میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔قَصَّ عَلَیْہ الْخَبْرَ وَالرُّؤْیَا حَدَّثَ بِھِمَا عَلٰی وَجْھِھِمَا بات کو بے کم و کاست بیان کیا۔ٹھیک طور پر بیان کیا۔وَمِنْہُ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ۔اَیْ نُبَیِّنُ لَکَ اَحْسَنَ الْبَیَانِ۔اور انہی معنوں میں سورہ یوسف کی آیت نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ میں یہ لفظ آیا ہے۔یعنی ہم تیرے سامنے ٹھیک ٹھیک بات بیان کرتے ہیں۔(اقرب)