تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 384
میں رحم کی مثال کے لئے یونس علیہ السلام کا واقعہ لیا تھا اور یہاں تفصیل میں آکر یوسف علیہ السلام کو لیا ہے۔اس کی ایک تو یہ وجہ ہے کہ حضرت یونسؑ کے واقعہ میں جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں صرف انجام کی مشابہت ہے اور درمیانی تفصیلات کی مشابہت نہیں۔لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات میں نہ صرف انجام کی مشابہت ہے بلکہ درمیانی واقعات میں بھی ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ یونس علیہ السلام کے واقعہ میں صرف یہ مشابہت ہے کہ وہاں بھی قوم بچ گئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم بھی بچ گئی لیکن یوسف علیہ السلام کے واقعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ کو مزید مشابہت یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خاندان کو انہی کے ذریعہ سے نجات دی۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی بخشش کا اعلان بھی خود آپؐ ہی کے منہ سے کرایا۔برخلاف حضرت یونسؑ کی قوم کے کہ ان کی نجات کا اعلان حضرت یونسؑ کے ذریعہ سے نہیں ہوا بلکہ خدا تعالیٰ کے فعل کے ذریعہ سے ہوا۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ (میں) اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں)۔الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۫۰۰۲ الٓرٰ یہ (حقائق کو) روشن کرنے والی کتاب کی آیات ہیں۔تفسیر۔اس سورۃ میں بھی روئت کے مضامین پر بحث ہے الٓرٰ۔میں اللہ ہوں جو دیکھتا ہوں۔اس سورۃ میں بھی روئیت کے مضمون پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس رسولؐ کے حالات یوسفؑ کے حالات سے ملتے ہیں۔پس اگر اس کے انجام کے ظہور سے پہلے اسے مفتری کہنا درست نہ تھا تو اسے مفتری کیونکر کہا جاسکتا ہے۔یہ اشارئہ بعیدمخا طبین کے حال کی بناء پر ہے تِلْکَ کے لفظ سے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس سورۃ میں جو پیشگوئی بیان ہوئی ہے وہ تم کو بعید نظر آتی ہے لیکن وہ ایک دن ضرور ہی پوری ہوکر رہے گی۔لفظ مبین میں دلائل کی طرف اشارہ ہے مُبِیْنٌ کہہ کر بتایا ہے کہ یہ کتاب دلائل اور براہین ساتھ رکھتی ہے اور نہ صرف خود واضح ہے بلکہ اپنے سے پہلی کتب پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔