تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 383
سُوْرَۃُ یُوْسُفَ مَکِّیَّۃٌ سورہ یوسف۔یہ سورۃ مکّی ہے۔وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ مِائَۃٌ وَّ اثْنَتَا عَشْـرَۃَ اٰیَۃً وَ اثْنَا عَشَرَ رُکُوْعًا اور بسم اللہ سمیت اس کی ایک سو بارہ آیتیں ہیں اور بارہ رکوع ہیں۔یہ سورۃ مکّی ہے اکثر صحابہ کے نزدیک سورہ یوسف ساری کی ساری مکی ہے لیکن ابن عباسؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ پہلی تین آیات کے سوا باقی سب مکی ہے۔سورہ یوسف ؑکا سورہ ہود سے تعلق اس سورۃ کا تعلق پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کے ساتھ سلوک کے دو پہلو بیان فرمائے تھے۔ایک سزا کا اور دوسرا رحم کا۔سزاء کے پہلو کو سورہ ہود میں تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔سزا کے پہلو کو پہلے بیان کرنے کی وجہ اور اس کو پہلے اس لئے بیان کیا ہے کہ جب کفار کی جزا کا وقت آیا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے پہلے سزا کا معاملہ کیا گیا تھا اور سورہ یوسف میں رحم کا پہلو لیا گیا ہے کیونکہ نبی کریمؐ کے آخری ایام میں رحم سے کام لے کر آپؐ کے مخالفوں کو معاف کر دیا گیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خاتم النبیین ہیں آپؐ کے مخالفوں سے بھی قیامت کا سا معاملہ کیا گیا۔وہاں بھی پہلے مجرموں کو دوزخ میں ڈالا جاوے گا اور وہاں سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔سورہ یوسف کی ایک خصوصیت کہ اس میں ایک ہی نبی کےحالات تفصیلاً پیش کئے گئے ہیں اس سورۃ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں ایک ہی واقعہ تفصیل و بسط سے بیان کیا گیا ہے اور کسی سورۃ میں ایسا نہیں کیا گیا۔باقی سورتوں میں ایک مضمون بیان ہوتا ہے اور مختلف واقعات کے چھوٹے چھوٹے فقرے تشریح کے لئے لائے جاتے ہیں۔آنحضرت کی اور حضرت یوسف کی زندگیوں کی تفصیلات میں مماثلت اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تفصیلات میں بھی ملتی ہے۔پس حضرت یوسفؑ کی تفصیلی زندگی بیان کی ہے۔تاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آئندہ زندگی کے لئے بطور پیشگوئی ہو۔سورہ یوسف میں تفصیلات کو بھی اور سورہ یونس میں صرف انجام کوذکر کرنے کی وجہ سورہ یونس