تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 375
وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ١ؕ اِنَّ اور( اے مخاطب) تو دن کی دونوں طرفوں اور( نیز) رات کے (متعدد اور مختلف) اوقات میں عمدگی سے نماز ادا کیا کر۔الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِيْنَۚ۰۰۱۱۵ نیکیاں یقیناً بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔یہ( تعلیم اللہ تعالیٰ کی سنتوں کو) یاد رکھنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے۔حلّ لُغَات۔طَرَفٌ۔اَلطَّرَفُ حَرْفُ الشَّیْءِ وَنِہَایَتُہٗ۔کسی چیز کا کنارہ اور اس کی حد۔اَلنَّاحِیَۃُ پہلو جانب طَائِفَۃٌ مِّنَ الشَّیْءِ۔کسی چیز کا حصہ (اقرب) دن کی دونوں طرفوں سے مراد صبح اور شام کے اوقات ہیں۔زُلَفٌ زُلَفًاجمع کا صیغہ ہے۔اس کا واحد زُلْفَۃٌ ہے۔اس کے معنی ہیں اَلْقُرْبَۃُ۔قرب۔اَلْمَنْزِلَۃُ درجہ الطَّائِفَۃُ مِنْ اَوَّلِ اللَّیْلِ۔رات کا پہلا حصہ وَقِیْلَ الزُّلَفُ السَّاعَاتُ الَّتِیْ یَلْتِقیْ بِہَا اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ۔وہ حصے جن میں دن رات ملتے ہیں یعنی دن اور رات کے شروع اور آخر کے حصے۔زلف کہلاتے ہیں۔(اقرب) وَقِیْلَ لِمَنازِلِ اللَّیْلُ زُلَفٌ۔مطلق رات کے اوقات کو بھی زلف کہتے ہیں۔(مفردات) تفسیر۔اس آیت کا پہلی آیات سے تعلق اور کامیابی کا گُر اس آیت میں نیکی کا گر بتایا ہے اور اس آیت کا پہلی آیات سے یہ تعلق ہے کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اتباع کی ذمہ داریاں بتائی گئی تھیں۔چونکہ اس قدر ذمہ داریوں کا پورا کرنا انسانی طاقت سے بالا تھا۔اس لئے اس آیت میں وہ طریق بتایا جس کے ذریعہ سے اس عظیم الشان فرض کے پورا کرنے میں مسلمان کامیاب ہوسکیں وہ گر یہ ہے۔کامیابی کا بڑا گُر عبادت الٰہی اور دعا ہے عبادت کرو۔اور دعاؤں میں مشغول ہوجاؤ۔کیونکہ خدا کی مدد سے ہی یہ کام کرسکو گے اور دوسرے یہ کہ نیک نمونہ سے لوگوں کے دلوں کو فتح کرو۔الفاظ بدیوں کو نہیں مٹا سکتے۔بلکہ نیکیاں انہیں مٹاتی ہیں۔نیک تقدیر پیدا کرنے کا گُر خود نیک نمونہ دکھاؤ اَقِمِ الصَّلٰوةَ میں نیک تقدیر پیدا کرنے کا گر بتایا ہے اور اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ میں ان تدابیر کا ذکر کیا ہے جن سے بدیاں مٹائی جاسکتی ہیں۔ایک تدبیر اس آیت سے یہ نکلتی ہے کہ خود نیک نمونہ دکھاؤ لوگ تمہاری نقل کریں گے۔اس طرح قوم کی بدیاں دور ہوتی جائیں گی۔اگر ہم ذرہ غور سے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ دنیا کے بہت کم لوگ اپنے لئے سوچ کر راستہ تیار کرتے ہیں۔سوائے