تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 369
گا۔یعنی ان لوگوں کو ہمارے ڈھیل دینے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیےکہ وہ سزا سے بچ گئے ہیں وہ سزا سے بچے نہیں ان کے اعمال محفوظ ہیں سزا میں ایک مدت تک ڈھیل ہے مگر وہ دن بھی ضرور آنے والا ہے جب مزید ڈھیل اللہ تعالیٰ نہیں دے گا اور یہ لوگ اپنے اعمال کی پوری سزا بھگتیں گے۔فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ پس (اے رسول) تو ان (لوگوں) کے سمیت جنہوں نے تیرے ساتھ ہو کر (ہماری طرف سچا) رجوع( اختیار) کیا اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۰۰۱۱۳ ہے( اس طرح پر )جس طرح تجھے حکم دیا گیا ہے سیدھی راہ پر قائم رہ۔اور( اے مومنو) تم( اس حکم کی) حد سے نہ بڑھنا جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے یقیناً دیکھتا ہے۔حلّ لُغَات۔اِسْتَقَامَ اِسْتَقَامَ الْاَمْرُوَاسْتَقَامَ لَہٗ الاَمْرُ اِعْتَدَلَ۔اس کے لئے کام ٹھیک اور درست ہو گیا۔وَفِی الْقُراٰنِ اِسْتَقِیْمُوْا اِلَیہِ اَیْ اِسْتَقِیْمُوْا فِی التَّوَجُّہِ اِلَیْہِ دُوْنَ الْاٰلِھۃِ اور قرآن کے الفاظ اِسْتَقِیْمُوْا اِلَیْہِ کے معنے یہ ہیں کہ تم باقی تمام معبودوں کو چھوڑ کر اس کی طرف اپنی توجہ کو درست کرو۔(اقرب) وَاِسْتِقَامَۃُ الْاِنْسَانِ لُزُوْمُہُ الْمَنْھَجَ الْمُسْتَقِیْمَ (مفردات) اور انسان کے لئے استقامت کا لفظ آئے تو اس کے معنی سیدھے راستہ پر قائم رہنے کے ہیں۔طغی طَغَی یَطْغٰی طَغًی وَطُغْیَانًا وَطِغْیَانًا جَاوَزَ الْقَدْرَ وَالْحَدَّ۔حد اور اندازہ سے آگے نکل گیا۔طَغَی فُلَانٌ اَسْرَفَ فِی الْمَعَاصِیْ وَالظُّلْمِ گناہوں اور ظلم میں حد سے بڑھ گیا۔(اقرب) تفسیر۔آنحضرت ؐ کی ذمہ داری کی وسعت و عظمت اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف اپنی جان ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ آپؐ پر ایمان لانے والوں کی درستی بھی آپؐ کا کام ہے۔اور یہی ذمہ داری آپؐ کے جانشینوں اور آپؐ پر ایمان لانے والوں پر ہے۔کیفیت اور کمیت دونوں لحاظ سے یہ ذمہ داری اس قدر ہے کہ پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے۔کمیّت کی رو سے عظمت کمیت کی طرف تو فَاسْتَقِمْ اور وَمَنْ تَابَ مَعَک کے الفاظ اشارہ کرتے ہیں۔ہمیشہ بغیر وقفہ کے خدا تعالیٰ کے احکام پر قائم رہنا اور اپنے ساتھیوں کو قائم رکھنا کوئی معمولی بات نہیں۔