تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 368
فَـجِئْتُ قُبُوْرَھُمْ بَدْأً وَلَمَّا فَنَادَیْتُ الْقُبُوْرَ فَلَمْ یُـجِبْنَہ میں اپنی قوم کے بڑے آدمیوں کے مرنے کے بعد جبکہ ان کی جگہ مجھے بڑا آدمی سمجھا جانے لگا اور ابھی میں فی الواقع بڑا آدمی بنا نہیں تھا ان کی قبروں پر گیا اور انہیں بلایا تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ابن حاجب کا خیال ہے کہ اس آیت میں بھی لما کا فعل حذف ہو گیا ہے۔جو ان کے نزدیک یُہْمَلُوْا ہے۔یعنی یہ کفار اپنے اعمال کی پاداش سے سبکدوش اور آزاد نہیں ہوچکے۔بلکہ ان کے اعمال کی جزا ابھی انہیں ملنے والی ہے۔ابن ہشام امامِ نحو کی تحقیق ابن ہشام مصنف مغنی اللبیب کے نزدیک بھی یہی توجیہہ ٹھیک ہے۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ محذوف یوفَّوا اَعْمَالَھُمْ نکالا جائے تو زیادہ بہتر ہے اس جملہ کو محذوف مان کر یہ معنے ہوں گے کہ اب تک تو ان کے اعمال کا پورا بدلہ نہیں دیا گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ پورا بدلہ دے گا ضرور۔علامہ محمد بن حیان اندلسی مصنف تفسیر بحرمحیط نے بھی اس توجیہہ کو صحیح قرار دیا ہے لیکن لکھا ہے کہ میرے نزدیک محذوف فعل ینقص نکالا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔اور انہوں نے یوں جملہ بنایا ہے لَمَّا یَنْقُصُ مِنْ جَزَآءِ عَمَلِھِمْ لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ اَعْمَالَھُمْ یعنی سب کے سب لوگ ایسے ہیں کہ ان کے اعمال کا بدلہ اب تک ضائع نہیں ہوا اور ضرور اللہ تعالیٰ ایک دن انہیں ان کے اعمال کی پوری جزاء دے گا۔صحیح توجیہہ یہی ہے کہ یہ لَمَّا جازمہ ہے میرے نزدیک توجیہہ یہی صحیح معلوم ہوتی ہے۔باقی سب توجیہات بعید از قیاس ہیں اور گو ان کےپیش کرنے والوں کے علمی رتبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم انہیں کلی طور پر باطل نہ کرسکیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں بہت کچھ تکلف معلوم ہوتا ہے مگر یہ توجیہہ بغیر تکلف کے ہے اور عربی کے ثابت شدہ قاعدہ کے مطابق ہے۔باقی رہا محذوف کا سوال سو یہ معمولی سوال ہے۔ایسے موقع پر محذوف کے لئے قاعدہ یہ ہے کہ بقیہ عبارت جس مضمون پر دلالت کرے اسے محذوف نکالا جائے اور تینوں فعل جو تین ائمہ صرف و نحو نے محذوف نکالے ہیں تینوں ہی آپس میں ہم معنے ہیں۔اس توجیہہ کے مطابق اس آیت کے معنی اور ان میں سے ہر اک کو ہم اختیار کرسکتے ہیں گو ابن ہشام کے قول کویہ ترجیح حاصل ہے کہ محذوف بھی الفاظ قرآن کے مطابق نکالا گیا ہے۔اس محذوف کو اگر ظاہر کیا جائے تو عبارت یوں بنے گی۔اِنَّ کُلًّا لَّمَّا یوفَّوْا اعمالھم لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ اَعمالَھم یقیناً یہ سب کے سب ایسے ہیں کہ اب تک انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ نہیں ملا۔مگر ایک دن ضرور تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے