تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 364

ہے کہ جب تک جنت و دوزخ کے آسمان و زمین رہیں گے وہ وہاں رہیں گے اور یہ امر کسی آیت سے ثابت نہیں کہ دوزخ کو فناء نہیں کیا جائے گا۔اور جب دوزخ کو فنا کر دیا جائے گا تو دوزخیوں کا دوزخ میں رہنے کا زمانہ بھی ختم ہو جائے گا۔فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰؤُلَآءِ١ؕ مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا پس( اے مخاطب) جو عبادت یہ( لوگ) کرتے ہیں اس کے (باطل ہونے اور برا پھل لانے کے) متعلق تو کسی كَمَا يَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ شک(و شبہ) میںنہ پڑ۔یہ اسی طرح کی عبادت کرتے ہیں جس طرح کی عبادت (ان سے) پہلے ان کے باپ دادے نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍؒ۰۰۱۱۰ کرتے تھے اورہم یقیناً یقینا ًانہیں (بھی) ان کا حصہ پورا پورا دیں گے جس میں سے( ہرگز) کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔تفسیر۔فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ کے معنی فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ کے دو معنے ہیں۔(۱) ان کے غیراللہ کو معبود بنانے کے متعلق شک نہ کر یعنے یہ خیال نہ کر کہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص غیراللہ کی عبادت شروع کردے کیونکہ جو عقیدہ ورثہ سے انسان کو ملتا ہے اور وہ خود اس پر غور نہیں کرتا اس میں ایسی حماقتوں کا ارتکاب اس سے کچھ بعید نہیں ہوتا۔ان معنوں کے رو سے تسلیم کرنا ہوگا کہ مخاطب اس زمانہ کے لوگ ہیں جب شرک لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو چکا ہوگا اور چاروں طرف توحید کا خیال پھیل جائے گا۔ان معنوں کے لحاظ سے یہ آیت ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ توحید ایسی غالب آجائے گی کہ ایک زمانہ میں لوگوں کو یہ بات ماننی مشکل ہو جائے گی کہ کوئی غیراللہ کی بھی عبادت کرتا ہے۔غلبۂ اسلام کے زمانہ میں مرکز اسلام کے رہنے والے لوگوں کا یہی حال ہوگا۔لیکن اب بھی کفار کے کئی عقائد جن کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے لوگوں کے لئے قابل تعجب نظر آتے ہیں اور وہ حیران ہوتے ہیں۔(۲) دوسرے معنے یہ ہوسکتے ہیں کہ اے مخاطب یہ نہ سمجھ لے کہ یہ لوگ سزا سے بچ جائیں گے کیونکہ یہ پہلوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔جب ان کو سزا ملی تھی تو یہ کیونکر بچ سکتے ہیں۔