تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 29

وَ جَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِيْهَا وَ قَدَّرَ فِيْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِيْۤ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآىِٕلِيْنَ۔ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيْنَا طَآىِٕعِيْنَ۔فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ فِيْ يَوْمَيْنِ وَ اَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ۔ان آیات کا یوں ترجمہ بنتا ہے کیا تم انکار کرتے ہو اس خدا کا جس نے زمین کو دو دنوں میں بنایا۔اور اس کے شریک قرار دیتے ہو۔وہ ہے رب العٰلمین اور اس نے پہاڑ بنائے ہیں زمین کے اوپر اور برکتیں ڈالیں اس میں اور رزق رکھا یہ سب کچھ اس نے چار دن میں کیا اور یہ جو اب سب قسم کے سائلوں کے لئے برابر تسلی دینے والا ہے۔(یعنی ایسے الفاظ میں جواب دیا گیا ہے کہ ایک عام آدمی بھی اس کو سمجھ سکتا ہے اور ایک علم طبقات الارض کا ماہر بھی اس سے تسلی پاسکتا ہے) اور آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو کہ دخانی حالت میں تھا۔اور اسے اور زمین کو کہا کہ ہمارے حضور میں حاضر ہو جاؤ۔پسند ہو یا ناپسند۔انہوں نے کہا ہم خوشی سے حاضر ہوتے ہیں۔پس کامل طور پر بنایا ان کو دو دنوں میں سات آسمانوں کی صورت میں اور ہر آسمان میں اس کے مفوضہ کام کی قابلیت رکھی اور سب سے ورلے آسمان کو روشن ستاروں کے ساتھ مزین کیا۔یہ اس خدا کا اندازہ ہے جو غالب اور خوب جاننے والا ہے۔فِی اَرْبَعَةٍ اَ یَّامٍ سے مراد اس آیت میں ثم واوکے معنی میں آیا ہے اور اس کے معنی ’’اور‘‘ کے ہیں اور اس کے پہلے جو مضمون بیان ہوا ہے وہ درحقیقت بعد کا ہے۔ثم کے ذریعہ سے پہلی بات کی صرف تشریح کی ہے۔بعض لوگوں نے ان آیات پر اعتراض کیا ہے کہ یہاں آٹھ یوم بنتے ہیں۔خلق الارض دو دن میں۔خزانوں اور غذاؤں کا پیدا کرنا چار دن میں اور سات آسمانوں کا بنانا دو دن میں۔اس کا جواب مفسرین نے یہ دیا ہے کہ جہاں فِی اَرْبَعَۃِ اَ یَّامٍ فرمایا ہے اس جگہ چار نئے دن مراد نہیں۔بلکہ زمین کی پیدائش میں جو دودن فرمائے تھے ان کو ملا کر چار دن فرمائے ہیں۔اور مطلب یہ ہے کہ خزانے اور غذائیں دودن میں پیدا کیں۔اور پہلے دن ملا کر یہ کل چار دن ہوئے۔میرے نزدیک یہ معنی گو زبان کے قواعد کے لحاظ سے درست ہیں مگر اس آیت کے مطالب کے لحاظ سے درست نہیں معلوم ہوتے۔اس جگہ زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنے کا ذکر نہیں ہے۔بلکہ پیدائش کے مدارج بیان کئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ زمین دو وقتوں یعنی دو دوروں میں پیدا ہوئی ہے اور اس کے بعد چار وقتوں یعنی دوروں میں اس کے اندر کی وہ قابلیتیں پیدا ہوئی ہیں جو انسان کے بقاء اور ترقی کے لئے ضروری تھیں۔اور یہ ذکر نہیں کہ اس زمانہ میں اس کے ساتھ ساتھ اور کوئی چیز نہیں بنی۔اور آسمان کے متعلق جو آیا ہے کہ وہ دو وقتوں میں بنا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے چھ دنوں کے بعد بنا۔بلکہ اس میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے مکمل ہونے پر بھی